کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 218
کہا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تشہد میں ) نہ بیٹھے۔ پھر اگر وہ رکن میں لگ جانے کے بعد (تشہد کی طرف) پلٹنے کا قصد کرے گا تو جمہور کے برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نماز باطل ہوجائے گی] حضرت شاہ ولی الله رحمہ اللہ ’’حجۃ اللّٰه البالغۃ‘‘ (ص: ۲۱۱ ) میں تحریر فرماتے ہیں : ’’فإن رجع لا أحکم ببطلان صلاتہ‘‘ اھ۔یعنی اگر پھر بیٹھ جائے تو میں بطلانِ نماز کا حکم نہیں دوں گا۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ ’’نیل الأوطار‘‘ (۲/ ۳۷۱) میں فرماتے ہیں : ’’فإن عاد عالما بالتحریم، بطلت لظاھر النھي، ولأنہ زاد قعودا، وھذا إذا تعمد العود، فإن عاد ناسیا لم یبطل صلاتہ‘‘ اھ۔ یعنی اگر پھر بیٹھ جائے اور یہ جانتا ہو کہ پھر بیٹھ جانا حرام ہے تو نماز باطل ہوجائے گی ظاہر نہی کی وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ اس نے ایک قعود زیادہ کر دیا اور نماز کا بطلان اس صورت میں اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ عمداً بیٹھ جائے اور اگر بھول کر بیٹھ جائے تو نماز باطل نہیں ہو گی۔ یہی قول اَقرب اِلی الصواب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً و فعلاً ثابت ہوچکا کہ سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد پھر نہ بیٹھے اور اس صورت میں پھر بیٹھنے سے جس کی صریح نہی آچکی تو جو شخص بعد علم اس نہی کے عمداً پھر اس کام کو کرے، یعنی عمداً پھر بیٹھ جائے تو بلاشبہ اس پر یہ بات صادق آئے گی کہ اس نے ایسا کام کیا، جس کا حکم اس کو منجانب شارع نہ تھا، یعنی اس نے خلافِ قانونِ شرع یہ کام کیا اور صحیحین میں ہے: (( من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو رد )) [1] یعنی جو شخص ایسا کام کرے، جس کا حکم اس کو منجانب شارع نہ ہو، یعنی وہ کام خلافِ قانون شرع ہو، وہ کام مردود ہے، یعنی شرعاً نا مقبول و نامعتبر و باطل ہے اور جب وہ کام شرعاً نا مقبول و نامعتبر و باطل ہوا تو اس کے فاسد ہونے میں کیا شبہہ رہا اور اس کام کے خلافِ قانونِ شرع ہونے سے اس نماز پر بھی، جس میں یہ کام کیا گیا، یہ صادق آیا کہ وہ نماز خلافِ قانون شرع پڑھی گئی تو بحکم حدیثِ صحیحین مذکورہ بالا وہ نماز ہی شرعاً نا مقبول و نامعتبر و فاسد ہوگئی، لیکن جو شخص اس کام کو بلا علم نہی مذکورہ بالا کے یا بھول کر کرے، اس کی نماز فاسد ہونے کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔ صح الجواب۔ أبو الفیاض محمد عبد القادر الأعظم گڑھی المؤی۔ صح الجواب۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ را جي رحمۃ اللّٰه ، أبو الہدی محمد سلامت اللّٰه المبارکفوري، عفا عنہ الباري۔ سجدۂ تلاوت: سوال:1۔ سجدۂ تلاوت بے وضو درست ہے یا نہیں ؟ [1] صحیح البخاري معلقاً، رقم الحدیث (۶۹۱۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸)