کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 215
کر اور ہمیں رسوائی کے بغیر اور فتنہ زدہ بنائے بغیر نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اے الله ! ان کافروں کو، جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے اور تیری راہ سے روکتے ہیں ، ہلاک کر اور ان پر اپنا غصہ اور عذاب نازل فرما۔ اے الٰہ الحق! ہماری دعا قبول فرما۔ اسے نسائی نے روایت کیا اور یہ الفاظ اسی کے ہیں ۔ نیز ابن حبان نے اسے روایت کیا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ روایت شیخین کے شرط پر صحیح ہے] کتبہ: محمد عبداللّٰه(مہر مدرسہ) فوت شدہ نماز کی قضا: سوال: اگر عصر کی نماز ایک شخص بھول گیا اور سورج ڈوبتے وقت اس کو یاد آئی، اب پہلے کون سی نماز پڑھے: عصر کی یا مغرب کی؟ ایسا ہی صبح کی نماز نہیں پڑھی، سو گیا اور سورج نکلتے وقت اٹھا، اب پڑھے یا نہیں ؟ جواب: جو شخص عصر کی نماز بھول گیا اور سورج ڈوبتے وقت یاد آگئی، اسی وقت پڑھ لے، اسی طرح جو شخص سو گیا اور فجر کی نماز نہیں پڑھی اور سورج نکلتے وقت اٹھا، وہ بھی اسی وقت پڑھ لے۔ عن أنس بن مالک أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: (( من نسي صلاۃ فلیصلھا إذا ذکرھا، لا کفارۃ لھا إلا ذلک ))[1] (متفق علیہ) [انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کوئی نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ اس وقت سو جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ] ولمسلم: (( إذا رقد أحدکم عن الصلاۃ أو غفل عنھا، فلیصلھا إذا ذکرھا فإن اللّٰه عز و جل یقول: أقم الصلاۃ لذکري )) (منتقی مطبوعہ، دہلی، ص: ۴۱) [2] و اللّٰه أعلم بالصواب [صحیح مسلم میں (فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز سے سویا رہ جائے یا اس سے غافل ہوجائے تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھ لے۔ یقینا الله عزوجل ارشاد فرماتے ہیں : میری یاد کے لیے نماز قائم کرو] کتبہ محمد عبد اللّٰه نماز میں بھول چوک اور سجدۂ سہو: سوال: 1۔ امام نے ظہر کی نماز فرض میں چار رکعت کی نیت کر کے تحریمہ باندھا اور سہواً امام نے پانچ رکعت پڑھا اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہوئی یا فاسد ہوئی؟ 2۔ امام عصر کی نماز فرض میں تشہد اول بھول کر سیدھا کھڑا ہوگیا، تب یاد آیا کہ قعدہ اولیٰ بھول گئے، پھر بیٹھ گیا اور [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۸۴) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۸۴)