کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 213
’’سمع اللّٰه لمن حمدہ، ربنا لک الحمد‘‘ کہہ چکتے تو فرماتے: اے الله ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ قبیلہ مضر پر اپنی سزا سخت کر دے اور ان پر ایسا قحط مسلط کر دے، جیسا کہ قومِ یوسف پر آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ دعا کیا کرتے تھے] ’’وعن ابن عباس قال: قنت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم شھرا متتابعاً في الظھر والعصر والمغرب والعشاء وصلاۃ الصبح، إذا قال سمع اللّٰه لمن حمدہ من الرکعۃ الآخرۃ، یدعو علی أحیاء من بني سلیم علی رعل وذکوان وعصیۃ، ویؤمن من خلفہ‘‘ (رواہ أبو داود) [1] [ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان منقول ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینا متواتر ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نمازوں میں قنوت پڑھی۔ ہر نماز کی آخری رکعت میں ’’سمع اللّٰه لمن حمدہ‘‘ کہنے کے بعد بنو سلیم میں سے رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بد دعا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے آمین کہتے تھے] ’’وفي صحیح ابن خزیمۃ عن أنس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم کان لا یقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا علیٰ قوم‘‘ (فتح الباري، ص: ۵۴۰) [2] [صحیح ابن خزیمہ میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشبہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت قنوت پڑھتے، جب کسی قوم کے لیے دعا یا کسی قوم کے خلاف بد دعا کرنا ہوتی] ’’وروی الخطیب في کتاب القنوت من حدیث محمد بن عبد اللّٰه الأنصاري ثنا سعید بن أبي عروبۃ عن قتادۃ عن أنس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم کان لا یقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا علیھم، وھذا سند صحیح، قالہ صاحب تنقیح التحقیق‘‘ (فتح القدیر: ۱/ ۱۸۶) [3] و اللّٰه أعلم بالصواب [خطیب نے کتاب القنوت میں محمد بن عبد الله انصاری کی حدیث روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت قنوت پڑھتے، جب کسی قوم کے حق میں دعا یا ان کے خلاف بد دعا کرنا مقصود ہوتا۔ اس کی سند صحیح ہے، جیسا کہ صاحبِ ’’تنقیح التحقیق‘‘ نے کہا ہے] 2۔ قنوتِ نوازل میں اس امر کی تخصیص ہے کہ اس میں مومنین کی فتح و نصرت اور کفار کی، جو مزاحمین مسلمین ہوں ، ہزیمت و شکست کی دعا ہو، جیسا کہ حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ و حدیثِ انس رضی اللّٰه عنہ سے جو سوال نمبر1 کے جواب میں منقول ہوئیں ، ظاہر ہے۔ اگر اس مضمون کی دعا کے خاص الفاظ حضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جائیں تو ازیں چہ بہتر، [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۴۴۳) [2] صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۳۱۴) [3] تنقیح التحقیق للذھبي (۱/ ۲۱۹)