کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 212
علیحدہ نماز پڑھنا طریقہ اسلامی کے سراسر خلاف اور موجبِ ضلالت ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ: ﴿وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۴۳] [اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو] نماز پنج گانہ میں قنوت اور دعا کے الفاظ: سوال: 1۔ قنوت نمازِ پنج گانہ میں پڑھنے کی سند تحریر فرمائیے۔ 2۔ تخصیص بھی کسی دعا کی ہے یا نہیں ؟ جواب: عن أبي ھریرۃ قال: لأقربن صلاۃ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ، فکان أبو ھریرۃ یقنت في الرکعۃ الآخرۃ من صلاۃ الظھر، وصلاۃ العشاء، وصلاۃ الصبح، بعد ما یقول سمع اللّٰه لمن حمدہ، فیدعو للمؤمنین ویلعن الکفار۔[1]وعن أنس قال: کان القنوت في الفجر والمغرب۔[2] (صحیح بخاري) [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تمھیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھاؤں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر، عشا اور صبح کی نمازوں کی آخری رکعت میں ’’سمع اللّٰه لمن حمدہ‘‘ کہنے کے بعد قنوت کرتے، مسلمانوں کے حق میں دعا کرتے اور کافروں پر لعنت فرماتے اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قنوت فجر اور مغرب میں تھی] ’’وظاھر سیاق حدیث الباب أن جمیعہ مرفوع، ولعل ھذا ھو السر في تعقیب المصنف لہ بحدیث أنس، إشارۃ إلی أن القنوت في النازلۃ لا یختص بصلاۃ معینۃ‘‘ اھ۔ (فتح الباري: ۴/ ۴۳۶، مطبوعہ دہلی) [باب میں مذکور حدیث کے سیاق کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری حدیث مرفوع ہے۔ شاید مصنف کے اس حدیث کے متصل بعد انس رضی اللہ عنہ کی حدیث لانے میں یہی راز ہے، یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ قنوتِ نازلہ کسی متعین نماز کے ساتھ خاص نہیں ہے] (( وعن أبي ھریرۃ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کان إذا أراد أن یدعو علی أحد أو یدعو لأحد، قنت بعد الرکوع فربما قال: إذا قال سمع اللّٰه لمن حمدہ، ربنا لک الحمد، اللّٰهم أنج الولید بن الولید، وسلمۃ بن ھشام، وعیاش بن أبي ربیعۃ، اللّٰهم اشدد وطأتک علی مضر، واجعلھا سنین کسني یوسف، یجھر بذلک۔۔۔ الخ )) (متفق علیہ۔ مشکوۃ شریف مطبوعہ أنصاری، ص: ۱۰۵) [3] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا یا کسی کے حق میں دعا کرنے کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت (میں ایسا) کرتے۔ راوی نے کبھی یوں بھی کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۶۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۷۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۶۵) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۲۸۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۷۵)