کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 209
بین الساریتین، فلما صلینا قال أنس بن مالک: کنا نتقي ھذا علیٰ عھد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘[1] [عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم نے امرا میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی۔ لوگوں نے ہمیں مجبور کر دیا، تو ہم نے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔ پھر جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مسعود میں اس سے بچا کرتے تھے] اگرچہ اس حدیث کے راوی عبد الحمید بن محمود پر بعضوں نے جرح بھی کی ہے،[2] مگر حاکم نے اس کی تصحیح اور تخریج ان لفظوں کے ساتھ کی ہے: ’’کنا ننھیٰ عن الصلاۃ بین السواري ونطرد عنھا‘‘[3](نیل الأوطار: ۳/ ۶۱، ۶۹) [ہمیں دو ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم کو اس سے سختی کے ساتھ روکا جاتا تھا] نماز باجماعت میں بارش کے وقت نمازی کیا کریں ؟ سوال:1۔ صحنِ مسجد میں جماعت قائم ہونے کے تھوڑی دیر بعد بارش شروع ہوگئی: 2۔ پس مصلین کو بحالہ بھیگتے ہوئے نماز ادا کرنا چاہیے؟ 3۔ یا امام و مقتدی کو بڑھ کر اندر مسجد داخل ہو کر نماز ادا کرنا چاہیے؟ 4۔ یا نیتوں کو توڑ کر پھر سے جماعت قائم کی جائے؟ جواب:1۔ صورت مسؤل عنہا میں مصلیانِ مسجد بھیگتے ہوئے نماز پوری ادا کریں ، اگر بھیگنے میں ان کو خوف ضرر نہ ہو۔ 2۔ آگے بڑھ کر اندر داخل ہو کر نماز پوری کریں ، اگر بھیگنے سے خوف ضرر ہو، بشرطیکہ آگے بڑھ کر اندر مسجد داخل ہونے میں استقبالِ قبلہ فوت نہ ہو اور بشرطیکہ اگر صحن مسجد سے داخل مسجد تک ایک صف کے قدر سے زیادہ مسافت یکبارگی اس مسافت کو طَے نہ کریں ، بلکہ بقدر ایک صف کے آگے بڑھیں ، پھر کچھ ٹھہر جائیں ، پھر کسی قدر آگے بڑھیں ، پھر ٹھہر جائیں ۔ 3۔ اگر ان دونوں شرطوں میں سے کوئی شرط بھی فوت ہو جائے تو پھر سے جماعت قائم کریں ۔ یہ جواب فقہ کے موافق ہے۔ حدیث کا جواب چنداں اس کے خلاف نہیں ہے۔ حدیث کے تفصیلی جواب کی کارڈ میں گنجایش نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری (۱/ ۶۵ مطبوعہ مصطفائی) میں ہے: [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۹) مسند أحمد (۳/ ۱۳۱) [2] ان کو نسائی، ابن حبان، ذہبی اور حافظ ابن حجر نے ثقہ اور امام دارقطنی نے ’’یحتج بہ‘‘ کہا ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : ’’قال عبد الحق في الأحکام: لا یحتج بہ، فرد علیہ ابن القطان وقال: لم أر أحدا ذکرہ في الضعفاء‘‘ (تھذیب التھذیب: ۶/ ۱۱۰) [3] یہ سیدنا قرہ بن اِیاس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ دراصل امام حاکم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے: ’’کلا الإسنادین صحیحان‘‘ (المستدرک: ۱/ ۳۳۹) نیز اس حدیث کو امام ابن خزیمہ و ابن حبان نے صحیح اور علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔