کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 208
نماز پڑھے تو سترے کے قریب ہو جائے، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز کو قطع نہ کر دے] اور یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نمازی اور اس کے سترے کے درمیان سے گزرے تو نمازی اس کو جس طرح ہو سکے، روکے: عن أبي سعید قال: سمعت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول: (( إذا صلی أحدکم إلی شيء یسترہ من الناس فأراد أحد أن یجتاز بین یدیہ فلیدفعہ، فإن أبیٰ فلیقاتلہ فإنما ھو شیطان )) (بخاري، باب یرد المصلي من مر بین یدیہ) [1] [ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے چھپا رہی ہو (یعنی کسی چیز کو سترہ بنا کر نماز پڑھے) اور پھر بھی کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر وہ اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہے] ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کی نماز کی جگہ کی حد اس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے سجدہ گاہ تک ہے، اس درمیان سے گزرنا منع ہے اور اس کے آگے سے درست ہے، اسی مدعا کی موید صحیحین کی یہ روایت بھی ہے: ’’عن ابن عباس قال: أقبلت راکبا علی أتان، وأنا یومئذ قد ناھزت الاحتلام، و رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یصلي بالناس بمنیً إلی غیر جدار فمررت بین یدي بعض الصف فنزلت، وأرسلت الأتان ترتع، ودخلت في الصف فلم ینکر ذلک علَيَّ أحد‘‘ (متفق علیہ) [2] [ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر مِنٰی میں نماز پڑھا رہے تھے، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا] مسجد کے دروں میں نماز پڑھنا: سوال: مسجد کے دروں میں نماز جماعت کی پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: مسجد کے درّوں میں نماز جماعت پڑھنا جائز نہیں ہے۔ عبد الحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ایک امیر کے پیچھے ہم لوگوں نے نماز پڑھی، تنگی جگہ کی وجہ سے میں نے دو ستون کے درمیان نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگ اس سے بچتے تھے۔ ’’عن عبد الحمید بن محمود قال: صلینا خلف أمیر من الأمراء فاضطرنا الناس، فصلینا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۰۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۰۴)