کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 193
فتحرر من ھذہ النقول صریحاً أن الضاد لیس مشابھا صوت الظاء، وإن صوت الضاد المشابہ صوت الظاء، من الحروف الضعیفۃ والمستھجنۃ، وھي غیر فصیحۃ فلیست من کلام الرب جل جلالہ، لأن کلام الرب عزوجل في أعلیٰ درجات الفصاحۃ والبلاغۃ، وتأمل تصریح الفقھاء ببطلان صلاۃ المتعمد القادر علی التعلم، وتمییز الضاد من الظاء، فإن ذلک صریح في الفرق بینھما، وإنہ لا نظر لقرب المخرج مع القدرۃ علی التعلم، وإخراج الضاد من مخرجہ الأصلي الذي سبق بیانہ موضحا من کلام أئمۃ اللغۃ والقراء ات وغیرھما۔ وقد غلط في ھذہ المسألۃ کثیر من علماء الھند فأفتوا وصنفوا، بل وعلموا بأن مخرج الضاد من طرف اللسان وأطراف الثنایا عکس ما نقلناہ من الفرق بین مخرج الحرفین، واغتروا بقول بعضھم لقرب مخرجھما، وھذا باطل، وقد علمت مما سبق بیانہ أنہ لا نظر لقرب المخرج مع القدرۃ علی التمییز وإنہ إنما یغتفر ذلک للعاجز عن التمییز والتعلم لا مطلقا۔ و اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ أعلم والحمد للّٰه رب العالمین، وحسبنا اللّٰه ونعم الوکیل، ولا حول ولا قوۃ إلا ب اللّٰه العلي العظیم، وصلی اللّٰه تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ وأصحابہ وأزواجہ وذریتہ أجمعین والتابعین لھم بإحسان إلی یوم الدین۔[1] آمین کیا نماز میں ’’ربنا لک الحمد‘‘ بلند آواز سے کہنا چاہیے؟ سوال: ’’ربنا لک الحمد‘‘ نماز میں بآواز بلند کہنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب: بخاری شریف کی اس روایت سے بآواز بلند کہنا ثابت ہوتا ہے: عن رفاعۃ بن رافع الزرقي قال: کنا یوما نصلي وراء النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ، فلما رفع رأسہ من الرکعۃ، قال: (( سمع اللّٰه لمن حمدہ )) قال رجل وراء ہ: ربنا لک الحمد، حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ، فلما انصرف، قال: (( من المتکلم؟ )) قال: أنا، قال: (( رأیت بضعۃ وثلاثین ملکا یبتدرونھا، أیھم یکتبھا أول )) [2] ’’رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ ہم لوگ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، آپ نے جب رکوع سے سر مبارک اٹھایا، فرمایا: ’’سمع اللّٰه لمن حمدہ‘‘ آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا: ’’ربنا لک الحمد، حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ‘‘ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، [1] نور العین من فتاوی الشیخ حسین (ص: ۱۲۰۔۱۲۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۶۶)