کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 187
عمرو کا بیان کہ حرف مذکور مشابہ بالدال ہے، بالظا نہیں ہے، بے ثبوت ہے۔ و اللّٰه اعلم بالصواب کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ صح الجواب، و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: أبوالفیاض محمد عبد القادر الأعظم گڑھی المؤی۔ ھو الموفق: یہاں پر مسئلہ قراء تِ ضاد کے متعلق علامہ شیخ حسین عرب صاحب محدث کا فتویٰ ان کے مجموعہ فتاویٰ ’’نور العین‘‘ سے نقل کر کے اس کا ترجمہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ علم کو محدث موصوف کی تحقیق پر بھی اطلاع ہوجائے اور اس مسئلے پر غور کرنے کا کافی موقع ملے۔ آپ کا وہ فتویٰ یہ ہے: ’’بسم اللّٰه الرحمن الرحیم۔ الحمد للّٰه رب العالمین، الفاتح لما أغلق، والأول الخالق، والصلاۃ والسلام علی نبیہ محمد أفضل الخلائق، وعلیٰ آلہ نخبۃ النخبۃ من الخلائق، وعلیٰ أصحابہ القاہرین بعدلھم کل منافق، الدامغین بسیوفھم وبیانھم کل مشاقق، وبعد: فقد وقع السؤال في تحقیق التلفظ بحرف الضاد، ھل ھي مشابھۃ لصوت الدال المفخمۃ أو تقرأ مشابھۃ للظاء المشالۃ۔ ما الصحیح في ذلک؟ أفیدونا جزیتم خیرا۔ جواب: ومن اللّٰه أستمد التوفیق، لاصابۃ الصواب۔ قال العلامۃ المُناوي (بضم المیم) في شرح القاموس ما لفظہ: الضاد حرف ھجاء للعرب، قالوا: والضاد حرف مستطیل، ومخرجہ من طرف اللسان إلی ما یلي الأضراس من الجانب الأیسر أکثر من الأیمن، والعامۃ تجعلھا ظاء ا فتخرجھا من طرف اللسان وبین الثنایا، وھي لغۃ، حکاھا الفراء، لکنھا نادرۃ غیر فصیحۃ۔[1] انتھی وقال العلامۃ السید محمد مرتضیٰ في تاج العروس عند قول مجد الدین صاحب القاموس في خطبتہ: مفحما باللسان الضادي أي العربي لأن الضاد من الحروف الخاصۃ بلغۃ العرب۔[2] انتھی وفیہ في ’’ظوی‘‘: الظاء حرف لثوي، مخرجہ من أصول الأسنان، جوار مخرج الذال، یمد، ویقصر، ویؤنث، ویذکر۔۔۔ إلی أن قال: وقال الخلیل: ھو حرف عربي خاص بلسان العرب، لا یشرکھم فیہ غیرھم من سائر الأمم۔ قال شیخنا: وصرح بمثلہ أبو حیان، و شیخہ ابن أبي الأحوص، وغیر واحد، فلا یعتد بمن قال: إنما الخاص الضاد۔ قلت وکأنہ تعریض [1] انظر: المصباح المنیر للفیومي (۲/ ۳۶۵) [2] تاج العروس من جواھر القاموس (۱/ ۵۳)