کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 183
النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( أعطوا أعینکم من العبادۃ حظھا )) قیل: وما حظھا من العبادۃ؟ قال: (( النظر في المصحف ))" [1] اھ۔[2] [اس کے قول ’’انضافت إلی عبادۃ‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ ایک دوسری عبادت کے ساتھ مل گئی ہے اور وہ ہے مصحف میں دیکھنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے ان کا حصہ عطا کرو۔‘‘ پوچھا گیا کہ عبادت میں سے ان کا حصہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(ان کا حصہ) مصحف میں دیکھنا ہے۔‘‘] جو لوگ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کو مفسدِ نماز کہتے ہیں ، ایک دلیل ان کی یہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھے گا تو ضرور اس کو قرآن ہاتھ میں لیے رہنا اور اس میں دیکھنا اور ورقوں کو الٹنا پڑے گا اور یہ مجموع عمل کثیر ہے اور عملِ کثیر مفسدِ نماز ہے۔ اس دلیل کا جواب کئی وجہوں سے ہے: اول یہ کہ کلام اس میں ہے کہ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز ہے یا نہیں ؟ اس میں قرآن کا ہاتھ میں لیے رہنا اور اس کے اوراق کا الٹنا کیا لازم ہے؟ جائز ہے کہ قرآن کسی چیز پر کھلا ہوا رکھا ہو اور نمازی اس کو دیکھ کر پڑھے، اس میں نہ قرآن کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے اور نہ اس کے ورقوں کے الٹنے کی اور ممکن ہے کہ کھلا ہوا قرآن ہاتھ میں لیے رہے اور صرف اسی قدر پڑھے، جس قدر سامنے کھلا ہوا ہے اور اس صورت میں اوراق الٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ قرآن دیکھ کر پڑھنے میں ضرور یہ تینوں کام کرنے پڑیں گے، لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ یہ تینوں کام تابڑ توڑ کرنے پڑیں ؟ جائز ہے کہ قرآن ہاتھ میں لیے رہے اور دیکھنے میں اس کے ورق الٹنے میں فصل پڑے۔ اگر یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ یہ تینوں کام تابڑ توڑ کرنے پڑیں گے، لیکن یہ بات کہ ان تینوں کام کا مجموعہ عملِ کثیر ہے، ممنوع ہے، اس لیے کہ عملِ کثیر میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ در مختار میں لکھا ہے کہ اس میں پانچ قول ہیں : منجملہ ان کے ایک یہ قول ہے کہ عملِ کثیر وہ عمل ہے، جس کو دور سے دیکھنے والا بلا تردد جانے کہ اس کام کے کرنے والے نماز میں نہیں ہیں ۔ در مختار میں اسی قول کو ’’ أصح‘‘ لکھا ہے۔[3] دوسرا قول یہ ہے کہ جو کام عادتاً دونوں ہاتھ سے کیا جائے، وہ عملِ کثیر ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ تین حرکتیں جو تابڑ توڑ ہوں ، وہ عملِ کثیر ہیں ۔ چوتھا قول یہ ہے کہ جس فعل کو فاعل بالقصد کرے، اس طرح پر کہ اس کے لیے مجلس علیحدہ کرے، وہ عملِ کثیر ہے۔ پانچواں یہ کہ نمازی کی رائے کی طرف مفوض ہے، یعنی جس عمل کو نمازی کثیر جانے، وہ [1] یہ حدیث موضوع ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۱۵۸۶) [2] العنایۃ (۲/ ۱۴۵) [3] الدر المختار (۱/ ۶۲۴)