کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 170
صحیح مسلم میں ابو السائب رحمہ اللہ سے یوں مروی ہے: عن أبي السائب أنہ قال: قلت لأبي ھریرۃ: إني أکون أحیانا وراء الإمام؟ قال: ’’اقرأ بھا في نفسک یا فارسي"[1] [ابو السائب سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو عرض کی: بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انھوں نے جواب دیا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھو] سنن ترمذی اور ابوداود میں نے یوں روایت کی ہے: عن عبادۃ بن الصامت قال: کنا خلف النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم في صلاۃ الفجر فثقلت علیہ القراء ۃ فلما فرغ، قال: (( لعلکم تقرؤون خلف إمامکم؟ )) قلنا: نعم یا رسول اللّٰه ! قال: (( لا تفعلوا إلا بفاتحۃ الکتاب فإنہ لا صلاۃ لمن لم یقرأ بھا )) [2] (رواہ الترمذي و أبو داود) ’’عبادہ بن صامت نے کہا کہ تھے ہم پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نمازِ فجر میں ، پس پڑھا حضرت نے قرآن، پس بھاری ہوا اُن پر پڑھنا، پس جب پڑھ چکے نماز، فرمایا: ’’شاید کہ تم پڑھتے ہو پیچھے امام اپنے کے؟‘‘ کہا ہم نے: ہاں ، اے رسول خدا کے! فرمایا: ’’نہ کیا کرو تم، یعنی نہ پڑھا کرو کچھ مگر سورت فاتحہ۔ پس تحقیق نہیں ہوتی نماز اس شخص کی جو نہ پڑھے سورت فاتحہ۔‘‘ وقال الترمذي: حدیث عبادۃ حدیث حسن وروی ھذا الحدیث الزھري عن محمود بن الربیع عن عبادۃ بن الصامت عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب، ھذا أصح والعمل علیٰ ھذا الحدیث في القراء ۃ خلف الإمام عند أکثر أھل العلم من أصحاب النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم والتابعین وھو قول مالک بن أنس رضی اللّٰه عنہ وابن المبارک والشافعي و أحمد و إسحاق یرون القراء ۃ خلف الإمام۔ [امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، حدیث حسن ہے۔ اس حدیث کو زہری نے محمود بن ربیع سے، انھوں نے عبادہ بن صامت سے، انھوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے (نماز میں ) سورت فاتحہ نہ پڑھی، اس کی کوئی نماز نہیں ۔‘‘ یہ زیادہ صحیح روایت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور تابعین میں سے اکثر اہلِ علم کے نزدیک امام کے پیچھے قراء ت کرنے کے بارے میں اسی حدیث پر عمل ہے۔ نیز امام مالک بن انس، عبد الله بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے، وہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کے قائل ہیں ] [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۹۵) کتاب القراء ۃ للبیھقي (۴۱) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۲۳) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۱۲)