کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 159
ذلک لم یصح دعوی النسخ، لأن من شرط الناسخ أن یکون أقوی من المنسوخ" [1] انتھی ما في التحقیق لابن الجوزي۔ [حنفیہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ رفع یدین کی احادیث دو حدیثوں کے ساتھ منسوخ ہیں ، چنانچہ انھوں نے ان میں سے ایک حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یوں روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے اور اُٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شروع نماز میں رکھا اور باقی کو چھوڑ دیا۔ دوسری روایت کو انھوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو رکوع سے اُٹھتے وقت رفع یدین کرتا تھا تو انھوں نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پہل ایسا کیا، پھر اس کو ترک کر دیا۔ یہ دونوں حدیثیں بالکل معروف نہیں ہیں ، جب کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے اس کے برخلاف روایات محفوظ ہیں ۔ چنانچہ ابو داود نے میمون المکی سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس وقت دیکھا، جب وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ اپنی ہتھیلیوں سے نماز کے لیے کھڑے ہوتے، رکوع جاتے اور سجدہ کرتے وقت اشارہ کرتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے) کہا: میمون نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تحقیق کی تو انھوں نے اس کو مستحسن قرار دیا اور فرمایا: اگر تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا چاہتا ہے تو عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کر۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو نسخ والا دعویٰ صحیح نہیں ہے، کیونکہ ناسخ کی شرط یہ ہے کہ وہ منسوخ سے زیادہ قوی ہو] اور دلیل پکڑنا ساتھ حدیث: (( لا ترفعوا الأیدي إلا في سبع مواطن: تکبیرۃ الافتتاح وتکبیرۃ القنوت وتکبیرۃ العیدین )) الحدیث۔ کے۔ جیسا کہ ہدایہ میں ہے، باطل ہے۔ حافظ ابن حجر ’’تخریجِ ہدایہ‘‘ میں فرماتے ہیں : "لم أجدہ ھکذا بصیغۃ الحصر، ولا بذکر القنوت، ولا بتکبیرۃ العیدین، وإنما أخرج البزار و البیھقي من طریق ابن أبي لیلیٰ عن نافع عن ابن عمر، وعن الحکم عن مقسم عن ابن عباس مرفوعاً و موقوفاً: لا ترفعوا الأیدي إلا في سبع مواطن في افتتاح الصلاۃ واستقبال القبلۃ وعلیٰ الصفا والمروۃ وبعرفات وبجمع وفي المقامین وعند الجمرتین، وفي روایۃ موقفین بدل المقامین، وذکرہ البخاري في رفع الیدین بالمفرد تعلیقاً قال: وقال وکیع عن ابن أبي لیلیٰ فذکر بلفظ لا ترفعوا الأیدي إلا في سبع مواطن افتتاح الصلاۃ وفي استقبال القبلۃ فذکر الباقي مثلہ ثم قال: قال شعبۃ: لم یسمع الحکم من مقسم إلا أربعۃ أحادیث، لیس فیھا ھذا الحدیث، ولیس ھذا من [1] التحقیق في أحادیث الخلاف (۱/ ۳۳۲)