کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 156
بروایت محمد بن ابی لیلیٰ کے بھی لایا ہے اور وہ حدیث مع اسناد کے نقل کی جاتی ہے: "حدثنا حسین بن عبد الرحمن أنا وکیع عن ابن أبي لیلٰی عن أخیہ عیسیٰ عن الحکم عن عبد الرحمن بن أبي لیلیٰ عن البراء بن عازب، قال: رأیت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم رفع یدیہ حین افتتح الصلاۃ، ثم لم یرفعھما حتی انصرف"[1] [ہم کو حسین بن عبد الرحمن نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم کو وکیع نے ابن ابی لیلیٰ سے، انھوں نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انھوں نے حکم سے، انھوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انھوں نے براء بن عازب سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اُٹھایا، پھر نماز سے فارغ ہونے تک ان کو دوبارہ نہیں اُٹھایا] یہ حدیث بھی لائقِ احتجاج نہیں ، کیونکہ منقطع ہے، اس لیے کہ درمیان میں یزید بن ابی زیاد کا واسطہ چھوٹا ہے، جیسا کہ امام بخاری کے کلام سے مفہوم ہوتا ہے: "وإنما روی ابن أبي لیلیٰ من حفظہ فأما من حدث عن ابن أبي لیلیٰ من کتابہ فإنما حدث عن ابن أبي لیلیٰ عن یزید فرجع الحدیث إلی تلقین یزید والمحفوظ ما روی الثوري وشعبۃ و ابن عیینۃ قدیماً"[2] انتھی ما في جزء رفع الیدین۔ [ابن ابی لیلیٰ نے اپنے حفظ سے اس روایت کو بیان کیا ہے، لیکن جس نے ابن ابی لیلیٰ سے اس کی کتاب سے بیان کیا تو اس نے اس کو ابن ابی لیلیٰ سے یزید سے بیان کیا ہے، پس یہ حدیث یزید کی تلقین کی طرف لوٹتی ہے، جب کہ محفوظ روایت وہ ہے، جو ثوری شعبہ اور ابن عیینہ نے پہلے بیان کی ہے] اور وہ روایت محفوظ یہ ہے: "حدثنا الحمیدي ثنا سفیان عن یزید بن أبي زیاد و ھھنا عن ابن أبي لیلیٰ عن البراء أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم کان یرفع یدیہ إذا کبر، قال سفیان: لما کبر الشیخ لقنوہ: ثم لم یعد، فقال: ثم لم یعد، قال البخاري: وکذلک روی الحفاظ من سمع من یزید بن أبي زیاد قدیماً، منھم الثوري وشعبۃ وزھیر، لیس فیہ: ثم لم یعد‘‘[3]انتھی ما في جزء رفع الیدین للبخاري۔ [ہمیں حمیدی نے، ہمیں سفیان نے یزید بن ابی زیاد سے بیان کیا اور یہاں ابن ابی لیلیٰ سے، انھوں نے براء سے کہ بلاشبہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ سفیان نے کہا کہ جب [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۷۵۲) [2] جزء رفع الیدین (ص: ۱۰) [3] جزء رفع الیدین (ص: ۹، ۱۰)