کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 147
امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں : "اجتمعت الأمۃ علی استحباب رفع الیدین عند تکبیرۃ الإحرام، و اختلفوا في ما سواھا، فقال الشافعي وأحمد وجمھور العلماء من الصحابۃ فمن بعدھم: یستحب رفعھما أیضاً عند الرکوع وعند الرفع منہ، وھو روایۃ عن مالک، وللشافعي قول أنہ یستحب رفعھما في موضع رابع، وھو إذا قام من التشھد الأول، وھذا القول ھو الصواب، فقد صح فیہ حدیث ابن عمر عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ کان یفعلہ، رواہ البخاري وصح أیضاً من حدیث أبي حمید الساعدي، رواہ أبو داود و الترمذي بأسانید صحیحۃ"[1]انتھی کلامہ [تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کے مستحب ہونے پر اُمت کا اجماع ہے اور اس کے علاوہ میں اختلاف ہے۔ امام شافعی، احمد رحمہما اللہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد والوں سے جمہور علما کا کہنا ہے کہ رکوع کرتے وقت، رکوع سے سر اُٹھاتے وقت ان کا اُٹھانا مستحب ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی ایک روایت مروی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ ہے کہ ایک چوتھی جگہ پر بھی رفع الیدین مستحب ہے اور وہ پہلے تشہد سے کھڑے ہونے کے وقت ہے اور یہی قول درست بھی ہے۔ اس بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ نیز یہ ابو حمید ساعدی کی حدیث سے بھی صحیح ثابت ہے۔ امام ابو داود اور ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے] اور اعتراض کرنا احناف کا اس حدیث پر، بایں طور کہ راوی اس حدیث کے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور مجاہد نے کہا ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھا تو رفع یدین نہیں کیا مگر اول مرتبہ، جیسا کہ روایت کیا طحاوی نے، پس موافق اصول کے حدیث مرجوح ہوئی اور قابل عمل کے نہ رہی، اس واسطے کہ اصولِ فقہ میں یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جو راوی کسی حدیث کو روایت کرے اور فعل اس کا اس کے خلاف پایا جائے تو وہ روایت مرجوح ہوتی ہے۔ یہ محض باطل ہے اور جواب اس کا کئی طرح سے دیا جاتا ہے، ایک تو یہ کہ صاحبِ مسلم الثبوت نے اس قاعدے کو باطل کر دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ صرف نہ کرنے سے راوی کی حدیث منسوخ نہیں ہوتی، جب تک راوی خود نہ بیان کرے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور علامہ معین الدین ’’دراسات اللبیب‘‘ میں فرماتے ہیں : "دلالۃ ترک الراوي مرویتہ علی نسخہ ممنوع من وجوہ، الأول لا نسلم جواز النسخ إلا بدلیل مثلہ من الشارع صلی اللّٰه علیہ وسلم لما تقدم، وترک الراوي من غیر إظھار دلیل عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم لا یکفي مؤنتہ"انتھی کلامہ [1] شرح صحیح مسلم (۴/ ۹۵)