کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 138
حفص بن غیاث سے اور طحاوی میں یحییٰ بن قطان کے واسطے سے ثابت ہے۔ یہ دونوں عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ قاسم سے اور قاسم رحمہ اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں ۔ چنانچہ انھوں نے یہ روایت بیان کی، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان (دو مؤذنوں ) کے درمیان اتنا ہی وقفہ ہوتا کہ ایک اذان کہہ کر بلند جگہ سے نیچے اترتا اور دوسرا اس پر چڑھ جاتا۔ اس بنیاد پر صحیح بخاری کی روایت میں ان کے قول کا معنی یہ ہوگا کہ قاسم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی روایت میں کہا نیز یہ زیادتی انیسہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں بھی ثابت ہے، جس کی طرف پہلے اشارہ ہوچکا ہے] اور بھی فتح الباری (۳/ ۳۴۶) میں ہے: ’’روایۃ عروۃ عن امرأۃ من بني النجار قالت: کان بلال یجلس علیٰ بیتي، وھو أعلیٰ بیت في المدینۃ‘‘ [عروہ بنو نجار کی ایک عورت سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: بلال رضی اللہ عنہ (اذان کے انتظار میں ) میرے گھر کی چھت پر تشریف فرما ہوتے تھے اور وہ گھر مدینے کے گھروں میں سے سب سے اونچا گھر تھا] اذان اول جو اذان ثانی مذکورہ بالا کے قبل رائج ہے، یہ اذان عہدِ نبوت علی صاحبہا الصلوات التسلیمات و نیز عہدِ خلافت راشدہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما میں نہ تھی، جو اَب اذان ثانی کہلاتی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: ’’عن السائب بن یزید قال: کان النداء یوم الجمعۃ أولہ إذا جلس الإمام علیٰ المنبر علیٰ عھد النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وأبي بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما ‘‘[1] [سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی، جب امام منبر پر تشریف فرما ہوتا۔ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی یہی معمول رہا] جواب نمبر 3، جواب نمبر 2سے معلوم ہوچکا ہے کہ وہ جو اذان اول کہلاتی ہے، یعنی خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے قبل کہی جاتی ہے، اس کا وجود عہدِ رسالت علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات اور عہدِ شیخین رضی اللہ عنہما میں تھا ہی نہیں ۔ باقی رہی وہ اذان جو اَب اذانِ ثانی کہلاتی ہے، اس کے لیے موذن کی تعداد بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ اگر ایک موذن سے زیادہ کی ضرورت نہ ہو تو ایک ہی موذن ہونا چاہیے اور اگر آدمی زیادہ ہوں اور ایک موذن کافی نہ ہو تو دو موذن ہوں اور دو موذن بھی کافی نہ ہوں تو تین موذن ہوں ۔ علی ہذا القیاس، جس قدر آدمی بڑھتے جائیں اس قدر موذن اور اذانیں بڑھا دی جائیں ، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب ان کے عہد میں لوگوں کی کثرت ہوئی تو ایک اور اذان بڑھا دی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قبل حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بجائے ایک اذان کے کئی اذانیں کر دیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک اذان کی دو اذانیں کر دیں ، چنانچہ صحیح بخاری میں سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۷۰)