کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 137
یعنی اگلی سنت یہ ہے کہ موذن منارے پر اذان کہے۔ اگر یہ دشوار ہو تو مسجد کی چھت پر، اگر یہ دشوار ہو تو مسجد کے دروازے پر۔ جملہ اخیرہ مطابق حدیث ابو داود کے ہے۔ الحاصل مسجد کے اندر خطیب کے سامنے اذان پکارنا بدعتِ ہشامی ہے، اس کو ترک کر کے مردہ سنت کو زندہ کرنا چاہیے، تاکہ ثواب احیاے سنت پائیں اور قولہ تعالیٰ:﴿لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ﴾ پر عمل کر کے لوگوں کی ملامت کا ڈر نہ رکھیں ، فقط و الله أعلم۔ جواب نمبر 3کا جواب نمبر 2میں آچکا ہے حدیث ابن ماجہ و نسائی میں ۔ و اللّٰه أعلم۔ کتبہ: محمد علی اطہر، غفر اللّٰه ولوالدیہ۔ جواب نمبر1 و2 اذان پنج گانہ اونچی جگہ پر ہونی چاہیے، اسی طرح اذان ثانی جو بروز جمعہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جاتی ہے، بلند جگہ ہونی چاہیے، نہ خطیب و منبر کے قریب، جیسا کہ عبارت شرعۃ الاسلام و در مختار و طحطاوی و شامی و مدخل ابن امیر الحاج منقولہ مجیب علام میں مصرح ہے۔ صحیح بخاری (۶/ ۲۵۶) میں ہے: ’’عن عائشۃ أن بلالا یؤذن بلیل، فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( کلوا واشربوا حتی یؤذن ابن أم مکتوم، فإنہ لا یؤذن حتی یطلع الفجر )) قال القاسم: ولم یکن بین أذانھما إلا أن یرقیٰ ذا، وینزل ذا‘‘[1] [عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ (طلوعِ فجر سے پہلے) رات کو اذان دیتے تھے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم (سحری) کھاتے پیتے رہو۔ وہ (ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ) طلوعِ فجر کے بعد ہی اذان کہتے تھے۔ (راویِ حدیث) قاسم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ دونوں کی اذان میں اتنا ہی وقفہ ہوتا تھا کہ ایک (اذان دینے کے لیے بلند جگہ پر) چڑھتا تھا اور دوسرا (وہاں سے اذان دے کر) نیچے اترتا تھا] فتح الباری(۲/ ۸۶) مصری میں ہے: ’’وفي ھذا تقیید لما أطلق في الروایات الأخری من قولہ: (( إن بلالا یؤذن بلیل )) ولا یقال إنہ مرسل، لأن القاسم تابعي، فلم یدرک القصۃ المذکورۃ لأنہ ثبت عند النسائي من روایۃ حفص بن غیاث، و عند الطحاوي من روایۃ یحییٰ بن القطان، کلاھما عن عبد اللّٰه بن عمر، عن القاسم عن عائشۃ فذکر الحدیث، قالت: لم یکن بینھما إلا أن ینزل ذا ویصعد ذا، وعلی ھذا فمعنیٰ قولہ في روایۃ البخاري: قال القاسم، أي في روایتہ عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا ۔۔۔، وثبتت الزیادۃ أیضا في حدیث أنیسۃ الذي تقدمت الإشارۃ إلیہ‘‘ [دوسری روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مطلق بیان ہوا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان کہتے ہیں ، جب کہ اس روایت میں اس اطلاق کی تقیید ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ اس کے راوی قاسم تابعی ہیں اور وہ اس قصے کے عینی شاہد نہیں ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سنن النسائی میں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۱۹)