کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 136
تو وہ اقامت کہہ دیتا۔ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا معمول بھی یہی تھا] نسائی میں ہے: ’’کان بلال یؤذن إذا جلس رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم علیٰ المنبر یوم الجمعۃ فإذا نزل أقام ثم کان کذلک في زمن أبي بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما ‘‘[1] الخ [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعے کے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبے سے فارغ ہو کر منبر سے) اترتے تو وہ اقامت کہہ دیتے۔ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی یہی معمول رہا] زمانہ شیخین میں بھی یہی تھا کہ وقتِ جلوس امام علی المنبرایک موذن اذان پکارتا تھا۔ لفظ ’’کذلک‘‘ اس پر دال ہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسری اذان زوراء پر بڑھائی۔ زوراء ایک جگہ کا نام ہے بازارِ مدینہ میں اور بعض نے کہا ہے کہ زَوراء ایک گھر کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ایک مکانِ مرتفع کا نام ہے مثل منارہ کے تھا اور بعض نے کہا کہ زَوراء ایک بڑے پتھر کا نام ہے، جو مسجد کے دروازے پر تھا، شاید ابو داود کی حدیث میں ’’علیٰ باب المسجد‘‘ سے یہی مراد ہو، و اللّٰه أعلم۔ باقی رہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس اذان کو جو زمانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں منارہ پر ہوتی تھی اور خطیب منبر پر ہوتا تھا، پھر جب ہشام بن عبدالملک والی ہوا تو اس نے اس اذان جس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دروازے پر مقرر فرمایا تھا، منارے پر مقرر کیا اور اس کے لیے ایک موذن تھا جو زوال کے وقت اذان کہتا تھا (شیخ دہلوی رحمہ اللہ مدارج النبوہ میں فرماتے ہیں کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ہشام بن عبدالملک نے اس اذان کو مسجد میں نقل کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پہلے مسجد کے اندر کوئی اذان نہ ہوتی تھی، ہشام نے اس کو نکالا ہے) اور جو اذان منارے پر ہوتی تھی وقت چڑھنے خطیب کے منبر پر اور اس کے لیے تین موذن تھے، اس نے اس اذان کو مسجد کے اندر نقل کیا کہ امام کے سامنے ہو اور بجائے تین موذن کے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ ٹھہر ٹھہر کر اذان پکاریں ، پس تحقیق ظاہر ہوگیا کہ ہشام کا یہ فعل مسجد میں خطیب کے سامنے ایک بدعت ہے اور ایک جماعت کا اذان دینا دوسری بدعت ہے، پس بعض آدمیوں نے ان دونوں بدعتوں کے ساتھ تمسک پکڑا ہے اور یہ دونوں بدعتیں ہشام بن عبدالملک کی نکالی ہوئی ہیں ۔ انتہی اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں : ’’من السنۃ الماضیۃ أن یؤذن المؤذن علیٰ المنار، فإن تعذر فعلیٰ سطح المسجد، فإن تعذر فعلیٰ بابہ‘‘[2]اھ۔ [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۹۴) [2] المدخل لابن الحاج المالکي (۲/ ۲۴۱)