کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 135
حالانکہ ان جملہ محدثین نے سائب بن یزید سے اس حدیث کو روایت کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ، یعنی ’’بین یدي رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘ اور ’’علی باب المسجد‘‘ ان کے نزدیک پایہ ثبوت و درجہ صحت کو نہیں پہنچا، بدیں وجہ ترک کیا اور ان دونوں میں توافق اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جس وقت مقامِ بیان خطبہ و باب مسجد میں محاذات ہو اور بابِ مسجد کی زمین پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان پکارتے ہوں ، حالانکہ فقہاے حنفیہ مقامِ بلند پر اذان پکارنے اور زمین پر اقامت کہنے کو سنت فرماتے ہیں ، اس سے نکلتا ہے کہ زمین پر اذان پکارنا خلافِ سنت ہے اور بدعت ہے۔ امام ابو عبد الله بن حاج کے قول سے بھی ثبوت بدعت ہوتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی کتاب مدخل میں کہا ہے: ’’السنۃ في أذان الجمعۃ إذا صعد الإمام علیٰ المنبر أن یکون المؤذن علیٰ المنارۃ، کذلک کان علیٰ عھد النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وأبي بکر و عمر و صدرا من خلافۃ عثمان، وکان المؤذنون ثلاثۃ، یؤذنون واحدا بعد واحد، ثم زاد عثمان أذانا آخر بالزوراء، وھو موضع بالسوق، وأبقیٰ الأذان الذي کان علیٰ عھد النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم علیٰ المنار، والخطیب علیٰ المنبر إذ ذاک، ثم إنہ لما تولی ھشام بن عبد الملک أخذ الأذان الذي فعلہ عثمان بالزوراء، وجعلہ علیٰ المنار، وکان المؤذن واحدا، یؤذن عند الزوال، ثم نقل الأذان الذي کان علیٰ المنار عند صعود الإمام علیٰ المنبر بین یدیہ، وکانوا یؤذنون ثلاثۃ، فجعلھم یؤذنون جماعۃ، ویستریحون، فقد بان أن فعل ذلک في المسجد بین یدي الخطیب بدعۃ، وأن أذانھم جماعۃ بدعۃ أخری، فتمسک بعض الناس بھاتین البدعتین، وھما مما أحدثہ ھشام بن عبد الملک‘‘[1]اھ۔ یعنی جمعہ کی اذان میں جس وقت امام منبر پر چڑھے، سنت یہ ہے کہ اذان منارہ پر ہو۔ اسی طرح زمانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور زمانہ خلافتِ شیخین و ابتداے خلافتِ عثمان میں تھا۔ میں کہتا ہوں کہ منارے سے مراد وہ جگہ مرتفع ہے جو مسجد نبوی کی چھت پر واسطے اذان بلال رضی اللہ عنہ کے تیار کر دی گئی تھی، اس لیے کہ زمانہ رسالت و خلافتِ خلفا میں منارہ نہ بنا تھا اور تین موذن تھے کہ ایک کے بعد دوسرا اذان کہتا تھا اور اس کے بعد تیسرا اذان پکارتا تھا۔ میں گمان کرتا ہوں کہ شاید خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین موذن ہوں ، کیونکہ زمانہ رسالت میں ایک موذن تھا۔ ابن ماجہ میں ہے: ’’ما کان لرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إلا مؤذن واحد، إذا خرج أذن، وإذا نزل أقام، و أبوبکر و عمر رضی اللّٰه عنہما کذلک ۔۔۔ الخ‘‘[2] [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ایک ہی موذن تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے گھر سے) باہر تشریف لاتے (اور منبر پر تشریف رکھتے) تو وہ اذان کہتا اور جب (خطبے سے فارغ ہو کر منبر سے) نیچے اترتے [1] المدخل لابن الحاج المالکي (۲/ ۲۰۸) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۱۳۵)