کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 132
[پھر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تمھارا کہنا تو یہ ہے کہ جمہور کا مختار مذہب یہ ہے کہ اقامت کے گیارہ کلمات ہیں اور ان میں "اللّٰه أکبر اللّٰه أکبر" اقامت کے شروع میں بھی ہے اور اس کے آخر میں بھی ہے اور یہ تو تثنیہ (جوڑا) ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ کلمات بظاہر تثنیہ ہیں ، لیکن اذان کی نسبت یہ مفرد ہی ہیں ۔ اس لیے ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ موذن کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ دونوں تکبیریں ایک سانس کے ساتھ کہے، چنانچہ وہ اذان کے شروع میں ’’ اللّٰه أکبر اللّٰه أکبر‘‘ ایک سانس سے کہے اور پھر " الله أکبر الله أکبر" دوسرے سانس کے ساتھ کہے] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری (۲/ ۲۳۶) میں لکھتے ہیں : "وقد استشکل عدم استثناء التکبیر في الإقامۃ، وأجاب بعض الشافعیۃ بأن التثنیۃ في تکبیر الإقامۃ بالنسبۃ إلی الأذان إفراد۔ قال النووي: ولھذا یستحب أن یقول المؤذن کل تکبیرتین بنفس واحد۔ قلت: وھذا إنما یتأتٰی في أول الأذان، لا في التکبیر الذي في آخرہ، وعلیٰ ما قال النووي ینبغي للمؤذن أن یفرد کل تکبیرۃ من اللتین في آخرہ بنفس"[1] اھ۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم [اقامت میں تکبیر کے عدمِ استثنا پر اشکال وارد ہوا تو بعض شوافع نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اقامت میں تکبیر کا تثنیہ اذان کی نسبتِ افراد ہی ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا کہ اسی لیے مستحب یہ ہے کہ موذن دونوں تکبیروں کو ایک سانس کے ساتھ کہے۔ میں (ابن حجر رحمہ اللہ ) کہتا ہوں کہ یہ عمل اذان کے شروع والی تکبیر میں ہوگا نہ کہ اس تکبیر میں جو اذان کے آخر میں ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق موذن کے لیے لائق یہ ہے کہ وہ اذان کے آخر والی دو تکبیروں میں سے ہر تکبیر کو ایک سانس کے ساتھ الگ الگ کہے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۵؍ذی القعدۃ ۱۳۳۰ھ) اذان میں انگوٹھے چومنے کا حکم: سوال: [اذان میں انگوٹھے چومنا] درست ہے یا نہیں ؟ بعض علما اس کو مستحب کہتے ہیں اور باعثِ اجر و ثواب جانتے ہیں ، چنانچہ علماے حرمین شریفین اسی طرح اس وقت فتویٰ دیتے ہیں ۔ جواب: اذان میں انگوٹھے چومنا نہ کسی آیت سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے۔ ومن ادعٰی فعلیہ البیان۔ [جو اس کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے ذمے دلیل بیان کرنا ہے] اذان کی جگہ اور جمعہ کے دن موذنوں کی تعداد: سوال: 1۔اذان پنج گانہ مسجد میں کس جگہ ہونی چاہیے؟ [1] فتح الباري (۲/ ۸۳)