کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 129
مروی ہے: (( البصاق في المسجد خطیئۃ، وکفارتھا دفنھا )) (متفق علیہ) [1] [مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے] سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (( عرضت علَيَّ أجورُ أمتي حتی القذاۃ یخرجھا الرجل من المسجد )) (رواہ أبو داود والترمذي واستغربہ، و صححہ ابن خزیمۃ) [2] [میرے اوپر میری امت کے اجر و ثواب پیش کیے گئے، حتی کہ وہ تنکا بھی جو آدمی مسجد سے نکال دیتا ہے] و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۹؍شعبان ۱۳۳۵ھ) مسجد کے اخراجات کے لیے ا س کی جگہ میں دکانیں تعمیر کرنا: سوال: ایک مسجد پختہ اب سٹرک شہر میں واقع ہے۔ بالکل غیر آباد اور بوسیدہ حالت میں ہوگئی ہے، اس کے چراغ بتی اور نیز مرمت وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اس کے بقا اور استحکام کا خیال کرتے ہوئے اگر لب سڑک دکان تعمیر کر دی جائیں اور اوپر مسجد کا حصہ کر دیا جائے، تاکہ دکان کی آمدنی سے مسجد کے اخراجات مرمت، صفائی، چراغ بتی اور پانی وغیرہ کے لیے ایک مستقل صورت پیدا ہوجائے۔ اس کی چھت وغیرہ بالکل مسمار ہوگئی ہے، باہر کی دیوار کھڑی ہے، اندر تمام گھاس جم گئی ہے، بالکل خراب و خستہ حالت میں ہے۔ اگر شرعاً اجازت ہو تو نیچے کا حصہ دکان میں شامل کر دیا جائے اور اوپر کا حصہ مسجد میں کر دیا جائے، یعنی اوپر مسجد اور اس کے نیچے دکان تعمیر کرا دی جائے تو ایسی صورت میں شرعاً اجازت ہے یا نہیں ؟ فقط شیخ محمد شبلی، شیخ علی حسن، شیخ محمد حمید اللہ ، شیخ محمد جنید، عبد المجید، شیخ محمد امانت اللہ ۔ ساکنان محلہ آصف گنج شہر اعظم، بقلم عبد المجید (مورخہ ۱۱؍اگست ۳۴ء) جواب: صورت مسؤلہ میں مسجد مذکور کی زمین پر یا اس کے کسی حصے پر دکان تعمیر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ جب کوئی زمین ایک بار مسجد قرار پا چکی تو اب وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہوگئی، اس کا مسجد ہونا کبھی باطل نہیں ہو سکتا اور اس جگہ کا ادب و احترام ہمیشہ کے لیے واجب ہے، نہ اُس میں جنب اور حائض و نفساء کا داخل ہونا جائز ہے اور نہ اس زمین پر یا اس کے کسی حصے پر دُکان تعمیر کرنا جائز ہے۔ اگرچہ یہ دکان اس غرض سے تعمیر کرائی جائے کہ اس کی آمدنی سے اس دکان کے اوپر مسجد بنائی جائے اور اس مسجد کے اخراجات مرمت، صفائی، چراغ بتی اور پانی وغیرہ کے لیے مستقل صورت پیدا ہوجائے، فقہائے حنفیہ کے نزدیک بھی یہی اصح ہے اور یہی مفتی بہ ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "وإذا خرب المسجد واستغنیٰ أھلہ و صار بحیث لا یصلیٰ فیہ، عاد ملکا لواقفہ أو لورثتہ حتی جاز لھم أن یبیعوہ أو یبنوہ دارا، وقیل: ھو مسجد أبداً، وھو الأصح، [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۵۲) یہ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۶۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۹۱۶) اس کی سند میں انقطاع ہے، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے، البتہ صحیح مسلم(۵۵۳) میں ایک حدیث بایں الفاظ مروی ہے: (( عرضت علي أعمال أمتي حسنھا وسیئھا، فوجدت في محاسن أعمالھا الأذی یماط عن الطریق، ووجدت في مساویٔ أعمالھا النخاعۃ في المسجد لا تدفن ))