کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 109
فرمایا: ’’زمین ساری کی ساری مسجد ہے، سوائے حمام اور مقبرہ کے] و عن ابن عمر قال: (( نھی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یصلیٰ في سبع مواطن: في المزبلۃ والمجزرۃ والمقبرۃ وقارعۃ الطریق وفي الحمام وفي معاطن الإبل و فوق ظھر بیت اللّٰه )) [1] (رواہ الترمذي و ابن ماجہ) [سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، مذبح (جانور ذبح کرنے کی جگہ) میں ، قبرستان میں ، عام راستے میں ، غسل خانے میں ، اونٹوں کے باڑے میں اور بیت الله کی چھت پر] ایک ہندو کے مال سے تعمیر شدہ مسجد کا حکم: سوال: ایسی مسجد جس کو ایک مسلمان نے ہندو کے روپے سے اس طرح کہہ کر بنوائی ہے کہ اگر تم فلاں مقدمہ جیتو تو میری بستی میں مسجد بنوا دیجیو، چنانچہ بحسبِ اتفاق وہ مقدمہ سر سبز ہوا اور ہندو نے روپے دیے اور مسلمان نے مسجد بنوائی، حکم مسجد رکھتی ہے یا نہیں اور اس میں ثواب نماز پڑھنے کا ہوگا یا نہیں ؟ اس مسجد کو توڑوا کر سب مسلمان بھائی حلال مال سے پھر بنوا سکتے ہیں یا نہیں ؟ نفسِ زمین اس کی بطورِ موقوف جائز ہے۔ اگر بمعاملۂ شر و فساد اس کو توڑوا کر بنوا نہ سکیں تو دوسری مسجد دوسری جگہ اس بستی میں بننے سے مصداق مسجد ضرار تو نہ ہوگی؟ جواب: مسجد مذکور حکمِ مسجد رکھتی ہے اور اس میں ثواب نماز پڑھنے کا ہوگا اور اس مسجد کا توڑنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ مسجد کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ جس کے خرچ سے بنے، وہ مسلمان بھی ہو۔ خود کعبہ کو دیکھیے کہ کافروں نے اس کو زمانہ جاہلیت میں بنایا تھا اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قائم رکھا اور اسی کی طرف منہ کر کے برابر نماز پڑھتے رہے اور فتح مکہ کے بعد بھی اس کو نہ توڑا۔ ہاں توڑنے کو ضرور فرمایا تھا، لیکن اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ کافروں کا بنوایا ہوا تھا، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس قاعدے پر اس کو بننا چاہیے تھا، اس قاعدے پر نہیں بنایا گیا تھا۔[2]غرض کہ مسجد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا بانی یا جس کے خرچ سے بنے، وہ مسلمان بھی ہو۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جب تک وہ شخص مومن نہ ہوگا، خود اس کو مسجد کے بنانے اور بنوانے کا کچھ ثواب نہ ہوگا۔ لقولہ تعالیٰ:﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِنِاشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْئٍ﴾ [سورۂ إبراھیم، رکوع: ۳] [ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں ، جس پر [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۴۶) امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث ابن عمر إسنادہ لیس بذاک القوي، وقد تکلم في زید بن جبیرۃ من قبل حفظہ‘‘ نیز دیکھیں : تمام المنۃ للألباني (ص: ۲۹۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۳۳)