کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 107
جواب: ازروئے قانونِ وقف مذہبِ اسلام مسجد ملک خدا کی ہے، کسی شخص کی جائداد نہیں ہے۔ ہر مسلمان اس میں خدا کی عبادت بجا لانے کا یکساں استحقاق رکھتا ہے، نہ اس کو کوئی توڑنے کی اجازت دے سکتا ہے نہ اس کا معاوضہ لینے کا کوئی مجاز ہے۔"من بنٰی مسجداً لم یزل ملکہ عنہ حتی یفرزہ عن ملکہ بطریقۃ، ویأذن بالصلاۃ فیہ، أما الإفراز فلأنہ لا یخلص للّٰه تعالیٰ إلا بہ، کذا في الھدایۃ" (فتاویٰ عالمگیریہ چھاپہ کلکتہ: ۲/ ۵۴۵، سطر: ۱۵) [جس نے مسجد بنائی تو اس وقت تک اس کی ملکیت ختم نہیں ہوگی، جب تک وہ ایک طریقے سے اس کو اپنی ملکیت سے الگ نہ کر دے اور نماز کی اجازت دے۔ ملکیت سے الگ کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صرف اسی کے ساتھ ہی الله تعالیٰ کے لیے اخلاص ہوسکتا ہے] "في وقف الخصاف: إذا جعل أرضہ مسجداً و بناہ وأشھد أن لہ إبطالہ وبیعہ فھو شرط باطل، ویکون مسجداً، کما لو بنٰی مسجدا لأھل محلۃ، وقال: جعلت ھذا المسجد لأھل ھذہ المحلۃ خاصۃ، کان لغیر أھل تلک المحلۃ أن یصلي فیہ، ھکذا في الذخیرۃ‘"(فتاویٰ عالمگیریہ، طبع کلکتہ: ۲/ ۵۴۷، سطر: ۱۹) [اگر وہ اپنی زمین کو مسجد کے لیے دے اور اسے تعمیر کرے اور گواہی دے کہ وہ اس کو ختم کر سکتا اور بیچ سکتا ہے تو یہ شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہی رہے گی، جیسا کہ اگر وہ ایک محلے والوں کے لیے مسجد بنائے اور کہے کہ میں نے یہ مسجد صرف اس محلے والوں کے لیے بنائی ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں ] عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما قال: أصاب عمر بخیبر أرضا، فأتی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال: أصبت أرضا، لم أصب مالا قط أنفس منہ، فکیف تأمرني بہ؟ قال: (( إن شئت حبست أصلھا، وتصدقت بھا )) فتصدق عمر أنہ لا یباع أصلھا، ولا یوھب، ولا یورث في الفقراء والقربٰی والرقاب وفي سبیل اللّٰه والضیف وابن السبیل، لا جناح علٰی من ولیھا أن یأکل منھا بالمعروف أو یطعم صدیقا غیر متمول فیہ۔ (بخاري شریف، طبع مصر: ۲/ ۱۴، سطر: ۱۴) [1] و اللّٰه تعالیٰ أعلم [سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: مجھے ایک زمین ملی ہے کہ اس سے عمدہ مال مجھے اب تک کبھی نہیں ملا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اس (کی آمدنی) صدقہ کر دو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کردیا کہ اس کی اصل فروخت اور ہبہ نہ کی جائے اور نہ وراثت ہی میں تقسیم ہو۔ وہ فقرا، قرابت داروں ، غلام آزاد کرانے، راہِ خدا میں ، مہمانوں اور مسافروں میں تقسیم کی [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۱۳)