کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 104
كتاب الصلاة مساجد کے احکام و مسائل حسبِ ضرورت نئی مسجد تعمیر کرنا: سوال: ہمارے مکان سے پاؤ کوس کے فاصلے پر ایک جمعہ کی مسجد ہے۔ وہاں کے لوگ اُس مسجد کی حفاظت و مرمت نہیں کرتے ہیں اور اس مسجد کے نزدیک ہی ایک آدمی کا مکان ہے۔ ہمارے یہاں زیادہ لوگ ہیں اور برسات کے ایام میں وہاں جانے میں محض تکلیف ہوتی ہے، یعنی راہ قریب پاؤ کوس کے ہے اور اثنا راہ میں کبھی سینے کبھی کمر تک پانی ہوتا ہے، اس واسطے ہمارے یہاں کے لوگوں نے اپنی بستی میں ایک مسجد بنائی ہے تو اس اطراف کے ایک دوسرے گاؤں میں ایک حاجی مجیر الدین صاحب ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ اس مسجد کا بنانا جائز نہیں ہے، بلکہ اور لوگ بھی کہتے ہیں ، تو اس مسجد کا بنانا جائز و درست ہو سکتا ہے یا نہیں اور نمازِ جمعہ درست ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ جواب اس کا حدیث و دلیل سے دیجیے، تاکہ جھگڑا طے ہوجائے۔ جواب: جس ضرورت سے دوسری مسجد بنائی گئی ہے، اُس ضرورت سے اُس مسجد کا بنانا جائز ہے اور جب ضرورت مذکورہ سے اس مسجد کا بنانا جائز ہے تو جمعہ کی نماز بھی اس مسجد میں جائز ہے۔ صحیح بخاری مع فتح الباری(۱/ ۲۵۸) چھاپہ دہلی میں ہے: "إن عتبان بن مالک أتیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قد أنکرت بصري، وأنا أصلي لقومي، فإذا کانت الأمطار سال الوادي بیني وبینھم، لم أستطع أن آتي مسجدھم، فأصلي بھم، ووددت یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إنک تأتیني فتصلي في بیتي فأتخذہ مصلی، قال: فقال لہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : سأفعل إن شاء اللّٰه تعالی" الحدیث۔[1] [عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ اے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں دیکھ نہیں سکتا اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں ، لیکن جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی پانی سے بھر جاتی ہے، جس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں آنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ انھیں نماز پڑھا سکوں ۔ اے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس آئیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں ، تاکہ میں اس کو نماز گاہ بنا لوں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میں ایسا کروں گا۔ ان شاء اللّٰه ] (نیز صفحہ : ۴۸۸) میں ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۸۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۳)