کتاب: مجموعہ مقالات اصول السنۃ - صفحہ 59
[۳] ریا کاری اور لڑائی جھگڑے کو دین میں چھوڑ دینا ۔ [۴] موزوں پر مسح کرنا ۔(۳) [۵] اچھے اور برے خلیفہ کے ساتھ مل کر جہاد کرنا۔ [۶] مسلمانوں میں سے جو انسان فوت ہو جائے اس کی نماز جنازہ اد کرنا ۔(۴) [۷] ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور اس میں اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے۔(۵) ........................................................................................... کے فرشتوں ،اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان لائے، چاہے وہ بھلی ہو یا بری ۔جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا ۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل مخلوق کی تقدیر مقرر فرمادی تھی ۔[2] (۳)امام احمد سے پوچھا گیاکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو موزوں پر مسح نہیں کرتے ، توانہوں نے فرمایا کہ وہ خوارج ہیں حد سے تجاوز کرنے والے لوگوں میں سے۔[3] خوارج کی طرح رافضی بھی موزوں پرمسح نہیں کرتے! (۴)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں ایک یہ ہے کہ جب کوئی فوت ہو اس کی نماز جنازہ ادا کرنا ۔[4] (۵)یہ اہل السنہ کا مسلمہ عقیدہ ہے اس پر اہل السنہ کا اتفاق ہے کہ ایمان قول و عمل ہے جو نیکی کے کاموں سے بڑھتا ہے اور گناہ کرنے سے کم ہوتا ہے۔اس پر قرآن و حدیث سے بہت زیادہ دلائل موجود ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿ وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا [1] نیز دیکھیں حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ (صحیح بخاری :(۵۰)،صحیح مسلم: (۵،۹) [2] صحیح مسلم:۲۶۵۳، نیز دیکھیں لمعۃ الاعتقاد،( رقم:۴۸۔۴۳) [3] شرح اصول السنۃ،( ص:۷۔۸) [4] صحیح مسلم : (۲۱۶۲) مسند احمد: (۸۳۷۸)