کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 95
میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا،جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی] اس حدیث میں وجوبِ نار سے دخول مراد ہے نہ کہ خلود۔ 2۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں : ((اِسْتَذْکِرُوْا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُوْرِالرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ)) [1] (متفق علیہ وزاد مسلم ((بِعَقْلِھَا))أي مربوط بھا) [قرآن یاد کرتے رہا کرو،کیوں کہ وہ آدمیوں کے سینوں سے نکل جانے میں کھلے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیز ہے] 3۔سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((تَعَاھَدُوْا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ! لَھُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عَقْلِھَا)) [2] (متفق علیہ) [قرآن مجید کی خبر گیری کرتے رہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو] ان احادیث میں قرآن مجید کو یاد کرنے اور اس کی خبر گیری کرنے کا حکم ہے۔معلوم ہوا کہ جو شخص کتاب اللہ کی تلاوت و دراست کا بہت سا چرچا اور بہت سی خبر گیری نہیں کرتا ہے،قرآن اس کے پاس سے بھاگ جاتا ہے۔جس طرح کہ اونٹ اپنے پابند سے نکل بھاگتا ہے،بلکہ قرآن کا آدمیوں کے سینوں سے اس سے بھی زیادہ گریز معلوم ہوتا ہے۔اللہم احفظنا۔ 4۔سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَۃِ،إِنْ عَاھَدَ عَلَیْھَا أَمْسَکَھَا،وَإِنْ أَطْلَقَھَا ذَہَبَتْ)) [3] (متفق علیہ) [صاحبِ (حامل و عاملِ) قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ والے کی طرح ہے،اگر وہ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۴۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۰) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۴۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۱) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۴۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۸۹)