کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 93
ثواب (درجات پر چڑھنے کی صورت میں) مکمل ہو گا] مذکورہ بالا حدیث اور اس عبارت میں حفظ کی قید نہیں ہے،بلکہ مطلق قراء ت کا ذکر ہے۔وللّٰہ الحمد۔لیکن علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’ویؤخذ من الحدیث أنہ لا ینال ھٰذا الثواب الأعظم إلا من حفظ القرآن وأتقن أداء ہ وقراء تہ کما ینبغي لہ‘‘[1] انتھیٰ۔ [حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ عظیم ثواب وہی حاصل کرے گا،جس نے قرآن مجید حفظ کیا،اس کی ادائی اور قراء ت کو ویسے درست اور پختہ کیا،جیسے اس کے لائق ہے] 11۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَرَأَ حَرْفاً مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَلہُ بِہِ حَسَنَۃٌ،وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا،لَا أَقُوْلُ الم حَرْفٌ،ألِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ)) [2] (رواہ الترمذي والدارمي،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث حسن صحیح) [جو شخص قرآن مجید کا ایک حرف پڑھتا ہے،اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے۔میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے،بلکہ الف ایک حرف ہے،لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے] قرآن مجید کے حروف کی تعداد تین لاکھ بائیس ہزار چھے سو ستر (۶۷۰،۲۲،۳) ہے۔اب اس کو دس گنا کر کے جوڑو کہ کس قدر نیکیاں بنتی ہیں۔وللّٰہ الحمد۔ 12۔سیدنا معاذ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے قرآن مجید کو پڑھ کر اس پرعمل کیا،اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا،جس کی روشنی گھروں کے اندر سورج کی چمک سے بہتر ہو گی۔اگر وہ سورج تمھارے گھر کے اندر ہوتا،پھر کیا گمان ہے تمھارا اس شخص کے ساتھ جو قرآن پر عمل کرتا ہے؟‘‘[3] (رواہ أحمد وأبوداؤد) [1] عون المعبود (۴/ ۲۳۷) [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۱۰) سنن الدارمي،رقم الحدیث (۲/ ۴۲۹) [3] مسند أحمد (۳/۴۴۰) سنن أبي داؤد،رقم الحدیث (۱۴۵۳)