کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 91
محدث ہے۔یقینا وہ کتابِ عزیز ہے،جو کثیر المنافع اور عدیم النظیر ہے۔اس کے پاس باطل نہیں آتا،اس چیز میں جس میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کی خبر دی ہے اور نہ اس میں جس میں اس نے آیندہ معاملے کی اطلاع دی ہے۔اس سے پہلے کی کتابیں اس کی تکذیب نہیں کرتی ہیں۔اس کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی،جو اسے باطل یا منسوخ کر دے۔یہ کمال حکمت والے تعریف کیے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے] 6۔سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا ہے: ((إِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَ الْکِتَابِ أَقْوَاماً وَّ یَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ)) [1] (رواہ مسلم) [بے شک اللہ،اس کتاب کے ذریعے سے کچھ لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور کچھ کو پستی کا شکار کر دیتا ہے] 7۔صحیحین میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں سورۃ البقرہ کی قراء ت پر سکینت کے نازل ہونے کا قصہ بیان ہوا ہے،اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ دَنَتْ بِصَوْتِکَ)) [2] (متفق علیہ) [وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے لیے قریب آ گئے تھے] 8۔سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((تِلْکَ السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ)) [3] (متفق علیہ) [وہ سکینت تھی،جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی تھی] 9۔سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَأُوْا القُرْآنَ فَإِنَّہُ یَأْتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعاً لِّأَصْحَابِہِ)) [4] الحدیث (رواہ مسلم) [قرآن پڑھا کرو،کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا] 10۔سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۷) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۳۰) صحیح مسلم،رقم الحدیث: (۷۹۶) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۷۲۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۵) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۰۴)