کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 882
مولف نے اس کا تکملہ لکھا،لیکن وہ بھی مکمل نہ ہو سکا۔ 3۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ شاگرد شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمہ اللہ۔یہ مرزا مظہر جان جاناں کے مرید اور تفسیر مظہری کے مولف ہیں۔یہ تفسیر وجوہِ اعراب،قراء ت،مسائلِ فقہ اور مقاماتِ صوفیہ پر مشتمل ہے۔بہ ہرحال یہ فنِ تفسیر سے اجنبی واقع ہوئی ہے۔ 4۔ مولوی سلام اللہ رحمہ اللہ جو کمالین کے مولف اور علماے دہلی میں شمار ہوتے ہیں۔ 5۔ مولوی تراب علی رحمہ اللہ۔یہ تفسیر ہلالین کے مولف ہیں۔یہ قرآن مجید کے صرف آخری پارے کی تفسیر ہے۔ اس کتاب کا مقصد ثانی دیکھ کر کتبِ تفاسیر اور ان کے مولفین کی وفیات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ سب مفسرین کسی نہ کسی طرح ان طبقات کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔کثرتِ تفاسیر کے باوجود اس فن کی معتبر کتابیں بہت کم ہیں۔تفسیر میں اصل اعتبار اس بات کاہے اور وہی تفسیر معتبر ہے جس میں تفسیر کی اہلِ سنت و جماعت کے مذہب کے ساتھ مطابقت ہو۔نیز احادیثِ صحیحہ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم کے اقوالِ ثابتہ،لغاتِ عرب اور وجوہِ اعاریب صحیحہ کی موافقت ہو،وہ تفسیر،تفسیر سے بیگانہ مطالب سے ملی ہوئی نہ ہو اور مفسر اس فن شریف کے دائرے سے نکلا ہوا نہ ہو۔صحیح تفسیر میں بس اتنی ہی چیزیں معتبر ہیں۔ 6۔ صدیق بن حسن علی قنوجی بخاری رحمہ اللہ۔یہ قنوج کی طرف منسوب ہیں،جو دوآب کے درمیان ہندوستان کا ایک علاقہ ہے۔یہ سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں فتح ہوا اور بخاری مشہور شہر کی طرف نسبت ہے۔محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اسی شہر کے رہنے والے تھے۔موصوف اگرچہ مفسرین اور محدثین میں سے تو نہیں ہیں،لیکن اپنے آپ کو ان کے دامن سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔وہ ان کی گل زمین میں سبزۂ بیگانہ کی طرح اگا ہوا ہے۔موصوف نے اپنے تفصیلی حالاتِ زندگی اپنی کتاب’’الحطہ‘‘ اور’’إتحاف النبلاء‘‘ میں لکھے ہیں۔موصوف کی ولادت انیس (۱۹) جمادی الاولیٰ ۱۲۴۸؁ھ علاقہ بانس بریلی میں ہوئی اور وطن مالوف یعنی شہر قنوج میں اپنی مہربان ماں کی آغوش میں نشو و نما پائی۔وہ پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گیا۔شعور کی عمر کو پہنچ کر علم و فضل کے حصول کے لیے باہر نکلا۔علومِ متداولہ اور فنونِ رسمیہ کی تحصیل کے