کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 876
اقوالِ ماثورہ،استنباطات،اشارات،اعاریب،لغات،نکتِ بلاغت اور محاسنِ بدائع وغیرہ جیسی ان تمام چیزوں کی جامع ہے،جن کی قاری کو ضرورت ہوتی ہے اور یہ تفسیر ایسی ہو کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور تفسیر کی سرے سے کوئی حاجت محسوس نہ ہو۔میں نے اس تفسیر کا نام’’مجمع البحرین ومطلع البدرین‘‘ رکھا۔یہ وہی تفسیر ہے کہ میں نے اس کتاب کو اس کامقدمہ بنایا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کو مکمل کرنے کی توفیق مانگتا ہوں۔انتھیٰ۔ لیکن سیوطی رحمہ اللہ کی یہ تفسیر میسر نہیں ہے۔نیز اس کے مکمل ہونے یا نہ ہونے کی کچھ خبر نہیں ہے۔راقم الحروف نے اپنی تفسیر’’فتح البیان في مقاصد القرآن‘‘ میں مذکورہ بالا تمام امور کا اختصار کے ساتھ اہتمام کیا ہے اور ان کی رعایت رکھی ہے اور روایت و درایت کو جمع کرنے میں تنقیح کرنے کے ساتھ اجمالی طور پر انھیں درج کیا ہے حتیٰ کہ وہ ان اوصاف میں اس زمانے میں متداول تمام تفاسیر سے فائق ہو گئی ہے۔والحمد للّٰہ الذي بنعمتہ تتم الصالحات۔ ساتواں طبقہ: اس طبقے کے کچھ رجال درج ذیل ہیں : 1۔ ابو القاسم حسین راغب اصفہانی رحمہ اللہ کی’’احتجاج القرآن در قراء ۃ مفردات القرآن‘‘ اس موضوع میں جمہور مفسرین نے ان کی تحقیقات پر اعتماد کیا ہے۔موصوف ۵۰۳ھ؁ میں فوت ہوئے۔اصفہان عراقِ عجم کا ایک مشہور شہر ہے۔ 2۔ ابو حامد محمد بن محمد غزالی ملقب بہ زین الدین۔غزالہ،طوس کی ایک بستی اور علاقے کا نام ہے۔’’جواہر القرآن‘‘ اور’’یاقوت التأویل‘‘ ان کی تالیفات ہیں۔موصوف ۵۰۵ھ؁ میں فوت ہوئے۔ یادرہےکہ محمود غزالی ایک اورشخص ہے،جومذہب میں معتزلی ہے۔شیعہ لوگ نسبت غزالی میں اکثر دھوکا دیتے ہیں۔ 3۔ ابو محمد حسین بن محمود بغوی رحمہ اللہ صاحبِ’’معالم التنزیل‘‘ یہ ۵۱۶ھ؁ میں فوت ہوئے۔یہ بغشور کی طرف منسوب ہیں،جو خراسان کے ما تحت علاقوں میں سے ایک شہر ہے۔موصوف کو فراء بھی کہتے ہیں،کیونکہ وہ چمڑوں کا کام کرتے تھے اور ’فراء‘‘ چمڑے کو کہتے ہیں۔ان کی تفسیر اگرچہ