کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 85
اہلِ علم نے کہا ہے: ’’فإن لم یحضرہ عند ذلک حزن و بکاء فلیبک علی فقد ذلک،فإنہ من المصائب‘‘ [1] [اگر قراء ت کے وقت اسے حزن و بکا میسر نہ آئے تو وہ ان کے فقدان ہی پر رو پڑے،یقینا یہ فقدان بہت بڑی آفت ہے] ایک ہی آیت کو تکرار سے بار بار پڑھنا مستحب ہے۔ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے: ((إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَامَ بِآیَۃٍ یُرَدِّدُھَا حَتیّٰ أَصْبَحَ: اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم)) [2] (رواہ النسائي وغیرہ) [یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت کو صبح تک بار بار پڑھتے ہوئے قیام کیا،(وہ آیت یہ ہے) ﴿اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم﴾ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دیں تو بے شک تو ہی سب پر غالب،کمال حکمت والا ہے] ائمہ ثلاثہ برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قراء تِ قرآن کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ﴿وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِِنْسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی﴾ [النجم: ۳۹] [اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے،جس کی اس نے کوشش کی] قرآن مجید کو کھڑے،بیٹھے،لیٹے اور چار زانوں ہر طرح پڑھنا درست ہے۔ہاں تکیہ نہ لگائے،با ادب ہیئت و حالت میں بیٹھے،اسی طرح جس طرح استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ سورۃالفاتحہ سے کچھ زیادہ حفظ کرنا نفل نماز سے افضل ہے،کیوں کہ (حفظِ قرآن) فرض کفایہ ہے۔[3] [1] المجموع شرح المھذب (۲/ ۱۶۵) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۰۱۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۳۵۰) [3] المجموع شرح المھذب (۴/ ۴)