کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 845
مجمع البحرین: یہ ابو الحسن علی بن محمد رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ مجمع البیان في تفسیر القرآن: یہ شیعہ شنیعہ کے فقیہ اور ان کے مصنف ابو جعفر محمد بن حسن بن علی الطوسی (المتوفی: ۵۶۱؁ھ) کی تالیف ہے۔یہ شیعہ طریق پر ایک ضخیم کتاب ہے۔کشاف کو مختصر کر کے یہ تالیف لکھی گئی اور اس کا نام:’’جوامع الجوامع‘‘ رکھا گیا۔ المجید في إعراب القرآن المجید: یہ شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد السفاقسی المغربی المالکی رحمہ اللہ کی چند جلدوں میں تالیف ہے،اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي شرفنا بحفظ کتابہ…الخ‘‘ مولف نے اپنی اس تالیف میں ابوحیان رحمہ اللہ کی کتاب’’البحر‘‘ کا ذکر کر کے کہا ہے کہ وہ تفسیر واعراب کو جمع کرنے میں مفسرین کے طریقے پر چلے،مگر ان کا گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا۔بہ ہرحال وہ بڑی جدوجہد صرف کرنے کے بعد اس کو جمع کرنے میں بہ مشکل کامیاب ہوئے۔انھوں نے اس کو جمع کیا اور پھر اس کا خلاصہ لکھا۔انھوں نے فرمایا کہ ابو البقا رحمہ اللہ کی کتاب ایسی کتاب تھی کہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس پر ٹوٹ پڑے تو میں نے اس کے اعراب سے متعلق جو چیزیں وہ اپنی اس کتاب میں نہ لا سکے،ان کو اپنی تالیف میں جمع کر دیا۔شیخ رحمہ اللہ کی کتاب میں میں نے جو اضافہ کیا،اس کو علامت’’م‘‘ کے ساتھ بیان کیا اور جن چیزوں کا ان کو اتفاق ہوا،اس کی علامت’’قلت‘‘ ہے اور اس میں جو اعتراض ہے وہ شیخ رحمہ اللہ کا ہے۔کبھی ایک شاذ قراء ت کئی اشخاص سے مروی ہوتی ہے تو وہ ان میں سے ایک شخص کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں اور جو قراے سبعہ میں سے کسی قاری سے مروی ہو،قطع نظر اس کے کہ وہ مشہور ہے یا شاذ،تو اسے اس کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ المحرر الوجیز في تفسیر الکتاب العزیز: یہ امام ابو محمد عبدالحق بن ابو بکر بن غالب بن عطیہ الغرناطی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۴۲؁ھ) کی تالیف ہے۔ابو حیان رحمہ اللہ نے ان کی مدح میں کہا ہے کہ وہ علمِ تفسیر پر لکھنے والوں میں سے اجل اور علمِ تفسیر کی تنقیح و تحریر کا اہتمام کرنے والوں میں افضل ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان (ابن عطیہ رحمہ اللہ) کی کتاب مختصر،اور جامع ترین ہے،جب کہ زمخشری رحمہ اللہ کی کتاب ملخص اور غامض ترین ہے۔