کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 838
اپنا مذہب واضح کرتا ہے۔اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنزل علیٰ عبدہ الکتاب۔۔۔الخ‘‘ الکنز في القراء ات: یہ ابو محمد عبداللہ بن عبدالمومن بن الوجیہ الواسطی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۴۰؁ھ) کی تالیف ہے۔مولف نے اس میں قلانسی رحمہ اللہ کی’’الإرشاد‘‘ اور دانی رحمہ اللہ کی’’التیسیر‘‘ کو جمع کر دیا ہے اور کچھ اضافی فوائد بھی لکھے ہیں۔ الکہف والرقیم في شرح بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم: یہ عبدالکریم بن سبط الشیخ عبدالقادر الکیلانی الحنبلی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الکامن في کنہ ذاتہ…الخ‘‘ علم کیفیۃ إنزال القرآن: اس کیفیت کو جاننے میں تین اقوال ہیں : 1۔ جو سب سے صحیح اور مشہور قول ہے کہ وہ یک بارگی لیلۃ القدر میں آسمانِ دنیا کی طرف اترا،پھر اس کے بعد وہ پچیس (۲۵) یا تئیس (۲۳) سال کے عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد مکے میں اقامت کے دوران میں حسبِ اختلاف تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ 2۔ وہ آسمان دنیا کی طرف بیس (۲۰) یا تئیس (۲۳) یا پچیس (۲۵) شبِ قدر میں اترا۔ہر رات میں اتنا اترا،جتنا اللہ نے ہر سال کا اترنا مقدر کیا،پھر بعد میں تھوڑا تھوڑا سارے سال میں اترتا رہا۔مقاتل رحمہ اللہ نے یہ قول نقل کیا ہے۔اسی طرح حلیمی رحمہ اللہ اور ماوردی رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں۔رازی رحمہ اللہ نے اس قول کو احتمال کے ساتھ ذکر کر کے توقف کیا ہے کہ آیا پہلا قول بہتر ہے یا دوسرا؟ 3۔ تیسرا قول یہ ہے کہ نزولِ قرآن کی ابتدا تو لیلۃ القدر میں ہوئی،پھر اس کے تمام اوقات میں مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ آگاہ رہو ! علما نے’’إنزال‘‘ کے معنی میں اختلاف کیا ہے: ان میں سے کسی نے تو کہا ہے کہ اس کا معنی قراء ت کا اظہار ہے۔کسی نے کہا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام کا الہام کرنا اور اس کی قراء ت کی تعلیم دینا مراد ہے۔کسی نے کہا ہے کہ فرشتہ (جبریل علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے اس کا روحانی تلقف حاصل کرتا ہے یا لوحِ محفوظ سے یاد کرتا ہے،پھر