کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 819
ملا کاتب رحمہ اللہ کہتا ہے کہ میرے پاس یہ دونوں شروح،متون سمیت موجود ہیں۔ کتاب سجود القرآن: یہ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الحربی رحمہ اللہ (المتوفی: ۲۸۵؁ھ) کی تالیف ہے۔نیز شیخ ابو بکر احمد بن الحسین بن مہران المقری الزاہد النیسابوری رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۸۱؁ھ) نے بھی اس موضوع پر ایک تالیف چھوڑی ہے۔ کتاب الشواذ في القراء ات: یہ ابو بکر احمد بن موسیٰ المعروف بہ ابن المجاہد المقری رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۲۴؁ھ) کی تالیف ہے۔ابو الفتح عثمان بن جنی رحمہ اللہ نے اس کی شرح لکھی اور اس کا نام’’المحتسب‘‘ رکھا۔ کتاب الشواذ: یہ ابو العباس احمد بن یحییٰ معروف بہ ثعلب نحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۲۹۱؁ھ) کی تالیف ہے۔اس موضوع پر جعبری رحمہ اللہ کا ایک رسالہ بھی ہے،جس کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنزل القرآن عربیا غیر ذي عوج…الخ‘‘ مولف نے اس میں کہا ہے کہ یہ رسالہ شنیع قسم کے واقعہ کو رفع دفع کرنے والا ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ قراء کی ایک جماعت بے رخ ہوا پر سوار ہوئی،وہ بے سوچے سمجھے کلام کرتے رہے،انھوں نے صحیح میں وارد ہونے والی سات قراء توں کا روایتاً حصر کیا۔ابو بکر بن مجاہد رحمہ اللہ کی سات قراء توں کے ساتھ تمسک کرتے ہوئے ان کے ماسوا قراء توں کا نام شاذ رکھا۔ان کا یہ شبہہ ائمہ عربیہ میں سرایت کر گیا۔اس پر اعتماد کرتے ہوئے ابو علی الفارسی رحمہ اللہ نے اس کی تعلیل بیان کرتے ہوئے’’کتاب الحجۃ‘‘ لکھی۔ابن جنی رحمہ اللہ نے تعلیل الشواذ یعنی اس سے نکلی ہوئی قراء توں پر کتاب’’المحتسب‘‘ لکھی۔لوگ اس کے پیچھے یوں چل پڑے گویا وہ فرضِ مبین ہے۔یہ کتاب پانچ فصلوں پر مرتب کی گئی ہے۔ کتاب القراء ات السبع: یہ ابن مجاہد رحمہ اللہ،جس کا ابھی پہلے ذکر ہوا ہے،کی تالیف ہے۔یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے سات قراء توں پر اقتصار کیا ہے۔اس میں مولف نے سات قراء توں میں سے نافع رحمہ اللہ کو دوسروں پر مقدم کیا ہے۔پھر اس کے دور میں اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر تالیفات کیں،جیسے ابو بکر احمد بن نصر السرائی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۷۰؁ھ) پھر صاحب’’الشامل والغایۃ‘‘ اور’’المنتھیٰ‘‘ کے مولف وغیرہ ہیں۔