کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 809
اس تفسیر کا ایک نسخہ اس فقیر کے پاس والدِ ماجد مرحوم کے خط میں موجود ہے،اس کے مطالعے سے بہت سا فیض ملا ہے۔غفر اللّٰہ لنا ولہ وأحسن إلینا وإلیہ۔اس تفسیر کے مولف رحمہ اللہ والدِ مکرم کے مشائخ اور اساتذہ میں سے ہیں۔ فتح القدیر الجامع بین فني الروایۃ والدرایۃ من علم التفسیر: یہ القاضی العلامہ الابر الانور الزکی المنور غر الاسلام مناخ رکائب التبجیل والاحتشام الحاوی لکمال العالم الانسانی محمد بن علی بن محمد الیمنی الصنعانی الشوکانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۲۵۵؁ھ) کی تالیف ہے۔ مولف نے اس میں کہا ہے کہ روے زمین پر موجود کتبِ تفسیر میں سے معتمدین علی الروایہ کی تفاسیر کو دیکھو،پھر معتمدین علی الدرایہ کی تفاسیر کی طرف رجوع کرو،پھر ان دو نظروں کے بعد ایک نظر اس تفسیر (فتح القدیر) پر ڈالو۔روزِ روشن کی طرح آپ کے سامنے بات واضح ہو جائے گی کہ یہ کتاب (فتح القدیر) لب اللباب،عجب العجائب،ذخیرۃ الطلاب اور نہایۃ مآرب الالباب ہے۔انتھیٰ۔ حق یہ ہے کہ وہ تفاسیر جو اس کتاب’’إکسیر في أصول التفسیر‘‘ میں جلوہ گر ہوئی ہیں،ان میں سے کوئی ایک تفسیر صحتِ معانی اور تنقیحِ مبانی میں اس تفسیر کے دسویں حصے کے برابر بھی نہیں ہے۔یہ تفسیر (فتح القدیر) اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔یہ صحیح اور مسند اخبار و آثار پر مشتمل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ محدثین و مفسرین وغیرہ میں سے مخرجین کے نام بھی اس تفسیر میں بیان کیے گئے ہیں۔کسی کہنے والے نے سچ کہا ہے: ھٰذا کتاب لو یباع بوزنہ ذھبا لکان البائع المغبونا [اگر اس کتاب کو سونے کے برابر وزن میں بھی فروخت کیا جائے تو فروخت کندہ خسارے میں رہے گا] راقم الحروف نے شعروں کے شواہد حذف کر کے اس تفسیر کا خلاصہ لکھا اور اس کا نام’’فتح البیان في مقاصد القرآن‘‘ رکھا۔چونکہ یہ تفسیر بہ القول تھی،چند آیات یا ایک رکوع لکھنے کے بعد لفظ’’قولہ‘‘ کی تعبیر کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے۔راقم الحروف نے اسے قرآن کریم کے ساتھ ملا دیا ہے اور دیگر معتبر و معتمد تفاسیر سے بہت سی چیزوں کا اضافہ کیا ہے،تاکہ یہ اس کا ملحض ٹھہرنے کے بجائے