کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 804
10۔ابو عبداللہ محمد بن یوسف الکفرطابی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۰۳؁ھ) 11۔علاء الدین علی بن عثمان الترکمانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۵۰؁ھ) مولف نے اپنی کتاب کا نام:’’بھجۃ الأریب لما في الکتاب العزیز من الغریب‘‘ رکھا ہے۔ 12۔محمد بن عزیز السجستانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۰۳؁ھ) 13۔ابو محمد عبدالرحمن بن عبدالمنعم الخزرجی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۶۴؁ھ) مولف نے اس کتاب میں بہت سی چیزوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ 14۔زین الدین عبدالرحیم بن حسین العراقی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۰۶؁ھ) 15۔ابو عمرو الزاہد زین الدین محمد بن ابی بکر بن عبدالقادر الرازی صاحب’’مختار الصحاح‘‘۔ان کی کتاب کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ بجمیع محامدہ…الخ‘‘ مولف نے اس میں ذکر کیا ہے کہ طلبہ اورقرآن مجید کے حاملین نے اس سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لیے غریب القرآن کے متعلق ایک تفسیر جمع کریں۔چنانچہ انھوں نے ان کا یہ مطالبہ قبول کرتے ہوئے جوہری رحمہ اللہ کی ترتیب پر کتاب مرتب کی اور اس میں اعراب و معانی کی کچھ چیزوں کا اضافہ بھی کیا۔مولف اس کی تالیف سے ۶۶۸؁ھ کو فارغ ہوئے۔ 16۔ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ،انھوں نے اپنی کتاب کا نام:’’الأریب بما في القرآن من الغریب‘‘ رکھا۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان‘‘ میں لکھا ہے کہ اس موضوع پر بے شمار اہلِ علم نے مستقل تصانیف تحریر فرمائی ہیں،جن میں سے سب سے زیادہ مشہور’’کتاب العزیزي‘‘ ہے۔مولف اور ان کے شیخ ابو بکر انصاری رحمہ اللہ نے اس کی تالیف میں پندرہ سال لگائے۔ ان میں سب سے عمدہ تالیف امام راغب رحمہ اللہ کی ہے۔ابو حیان رحمہ اللہ کی بھی اس موضوع پر ایک تالیف ہے۔[1] انتھیٰ۔ ابن السمین الحلبی رحمہ اللہ کی بھی’’مفردات القرآن‘‘ کے نام سے ایک تالیف ہے،جو اس موضوع پر لکھی جانے والی سب سے عمدہ تالیف ہے۔مولف ۵۹۶؁ھ میں فوت ہوئے۔ [1] کشف الظنون (۲/ ۱۲۰۳)