کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 799
ہے۔عمدۃ المفید کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:’’یا من یروم تلاوۃ القرآن…الخ‘‘۔پھر انھوں نے اس کی مختصر شرح لکھی۔نیز الشیخ الامام اسماعیل بن محمد بن اسماعیل الفقاعی بن سعد اللہ المعروف بہ ابن الفقاعی الحموی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۷۰؁ھ) اور شمس الدین احمد بن محمود الادیب الحکیم المقری رحمہ اللہ نے بھی اس کی ایک شرح لکھی ہے،جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنزل القرآن العظیم والذکر الحکیم…الخ‘‘ العنوان: یہ ابو طاہر اسماعیل بن خلف المقری الانصاری الاندلسی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۵۵؁ھ) کی قراء ت پر تالیف ہے۔ابن خلکان رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ اس فن کی نہایت عمدہ کتاب ہے،اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنشأنا بقدرتہ…الخ‘‘۔مولف نے اس میں ایجاز و اختصار کے ساتھ قراے سبعہ کا اختلاف ذکر کیا ہے،تاکہ یہ یاد کرنے والے کے لیے آسان ہو جائے اور مبتدیوں کے لیے اس میں کوئی خفا نہ رہے،پھر انھوں نے’’الاکتفاء‘‘ کے نام سے اس کا ترجمہ بھی کر دیا،جو منتہی اور مبتدی کے لیے کافی ہے۔موصوف نے اسے خوب کھول کر بیان کیا ہے،جو عقل و شعور رکھنے والے کے لیے بالکل مشکل نہیں۔ الغرض انھوں نے اس مختصر کو اس کا عنوان اور ترجمہ قرار دیا۔عبدالظاہر بن نشوان بن عبدالظاہر المقری الجذامی المصری الرومی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۴۹؁ھ) نے اس کی شرح لکھی،جس کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ المنعم بآلآۂ …الخ‘‘ اس میں انھوں نے ذکر کیا کہ ان کے شیخ ابو الجود غیاث الدین بن فارسی رحمہ اللہ اکثر اس سے مدد چاہتے تھے،لہٰذا انھوں نے اس کی شرح کی اور اس میں قراء اتِ مشہورہ اور روایاتِ ماثورہ کا اضافہ کیا،ہر قراء ت کی علت بیان کی،پھر ائمہ قراء ت اور ان کے روات کا ذکر کیا۔ عین الأعیان في تفسیر القرآن: یہ سورۃ الفاتحہ کی تفسیر ہے،جو شمس الدین محمد بن عمر الفناری رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۳۴؁ھ) کی تالیف ہے۔ عین المعاني في تفسیر السبع المثاني: یہ محمد بن طیفور السجاوندی الغزنوی رحمہ اللہ (المتوفی: چھٹی صدی ہجری) کی تالیف ہے،اس کی ایک مختصر بھی ہے،جس کا نام :’’إنسان عین المعاني‘‘ ہے۔