کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 794
باب الطاء المہملۃ طبقات القراء: یہ ابو عمرو عثمان الدانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۴۴؁ھ) کی تالیف ہے۔شیخ محمد بن محمدالجزری رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۳۳) کی بھی صغریٰ اور کبریٰ تالیف ہے۔کبریٰ کا نام’’النہایۃ‘‘ اور صغریٰ کا نام’’غایۃ النہایۃ‘‘ ہے۔یہ اس فن کی کتابوں میں سے سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن عثمان الذہبی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۴۸؁ھ) نے بھی اس موضوع پر ایک کتاب لکھی،جو انھوں نے اپنی تاریخ کبیر سے اخذ کی،پھر الشریف ابو المحاسن محمد بن علی الحسینی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۶۵؁ھ) نے اس کا تکملہ اور تتمہ لکھا۔ابو معشر عبدالکریم بن عبدالصمد الطبری رحمہ اللہ کی بھی اس موضوع پر ایک تالیف ہے،اس کے سترہ طبقات ہیں۔صفدی رحمہ اللہ نے مصنف کو یہ کتاب پڑھ کر سنائی۔اس پر عفیف مطری رحمہ اللہ کا بھی ایک تتمہ ہے۔اسی طرح عمر بن علی بن الملقن رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۰۴؁ھ) کی تالیف ہے اور ابو العلاء حسن بن احمد الہمدانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۶۹؁ھ) کی بیس جلدوں میں تالیف ہے۔ طبقات المفسرین: یہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۱۱؁ھ) کی تالیف ہے۔نیز اس نام سے محمد بن علی بن احمد الداودی المالکی رحمہ اللہ کی بھی ایک تالیف ہے۔موصوف ۹۴۱ھ؁ میں اس تالیف سے فارغ ہوئے۔انھوں نے فرمایا کہ میں نے یہ کتاب تالیف کرنے کے لیے طبقات ابن السبکی،طبقات ابن قاضی شہبہ،طبقات ابن فرحون اور طبقات حنابلہ وغیرہ کا مطالعہ کیا۔انھوں نے اپنی اس کتاب کا آغاز اس طرح کیا کہ بسملہ کے بعد حرف الف میں ان کا ذکر کیا ہے،جن کا نام ابان ہے،پھر باقی حروفِ تہجی پر انھوں نے ذکر کیا۔اس فن کی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔نیز اس موضوع پر شیخ ابو سعید صنع اللہ الکوزہ الکفانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۸۰؁ھ) کی بھی ایک تالیف ہے۔ طراز العالمین في حکم الاستفہامین: یہ سراج الدین عمر بن قاسم النشار رحمہ اللہ کی قراء ت پر مختصر تالیف ہے۔