کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 788
اس تفسیر پر دستخط ثبت فرمائے،جیسے شیخ یعقوب کشمیری اور سید محمد شامی رحمہما اللہ۔نیز ملا ظہوری ترشیزی رحمہ اللہ نے قصیدۂ غراد میں تقریباً ستر رباعیاں لطائفِ اہمال میں نظم کیں۔اسی طرح ملک قمی نے بھی رباعیات کو نظم کی لڑی میں پرویا۔انتھٰی۔ راقم الحروف نے اس تفسیر کا مطالعہ کیا اور اس کے پاس یہ تفسیر موجود ہے۔فیضی رحمہ اللہ کی اس تفسیر کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’اللّٰہ لا إلہ إلا ھو،لا أعلمہ ما ھو ولا أدرکہ کما ھو…الخ‘‘ اس تفسیر کے دیباچے میں چند سواطع سرخ روشنائی سے لکھے گئے ہیں۔ایک دو ساطعے مندرجہ ذیل ہیں : ساطعہ: علم کلام اللّٰہ داماء لا ساحل لہ،وطود لا مسلک لہ،کل واحد أراد وصولہ،وما وصل آمدہ،ورام سلوک درکہ وما أدرک حدہ۔ ساطعہ: أصل المراد وملاک الإسلام ہوالعمل لا العلم وحدہ،کما ہو مدلول کلام اللّٰہ الودود: اعملوا آل داؤد،اللّٰہ ہوالمعد للعلم والممد للعمل۔ ساطعہ: العلماء الصلحاء ہم الأرہاط السعداء،ہمہم ہم الإسلام،وسرورہم لعلوّ أمرہ وسرور أہلہ ومرادہم ہواللّٰہ وإعلاء أوامرہ وروادعہ،وورد صلاح العالِم صلاح العالَم،والعالم الصالح صلاح الممالک وسلاح المعارک،ولہؤلاء العلماء کلام کالمسک معطر الأرواح ومروّح الصدور،وعلماء السوء لہم کلام کالعود الداعر مکدرالحواس وممل الأسماع۔ ساطعہ: العلوم کلہا صداع إلا علم کلام اللّٰہ،وکل علم سواہ عطِّلہ وأہمِلْہ،وکلام اللّٰہ لا عدّ لمحامدہ،لا حد لمکارمہ،ولا حصر لرسومہ ولا إحصاء لعلومہ،وہو إمام أہل الإسلام،ومدار أصل المرام،ومصرح علم الحلال والحرام،ومطرح سر الأوامر والأحکام،مصدر العلوم وموردہا،ومحمل الأسرار ومطلعھا،ومودع الحکم ومصدعھا،ومحط الصالح ومسلکھا،حاملہ واطد،و عالمہ سامک،وعاصمہ ہاد،و حاکمہ عادل،وسالکہ واصل،وما علم علوم کلام اللّٰہ کلھا إلا اللّٰہ ورسولہ،وأولو العلم ما علموا إلا عدادا وورد علوم کلام اللّٰہ عدد کلمہ۔[1]انتھٰی۔ [1] کشف الظنون (۲/ ۱۰۰۸)