کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 785
باب الزاء المعجمۃ زاد المسیر في علم التفسیر: یہ چار اجزا پر مشتمل ابو الفرج علی بن الجوزی البغدادی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۹۷؁ھ) کی تالیف ہے۔ الزبور: یہ کتب سماویہ میں سے ہے،جو داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی ہے۔انتھیٰ ما في کشف الظنون۔ راقم الحروف کہتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہم یہ باتیں کرتے تھے کہ وہ (زبور) تو ایک دعا ہے،جو داؤد علیہ السلام کو سکھائی گئی۔نیز وہ اللہ عز و جل کی تحمید و تمجید ہے۔اس میں حلال و حرام کا بیان ہے نہ فرائض وحدود کا کوئی ذکر ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ زبور تو اللہ تعالیٰ کی ثنا،دعا اور تسبیح پر مشتمل ہے۔علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حقیقت الامر یہی ہے،جو قتادہ اور ربیع رحمہما اللہ نے بیان کیا ہے۔ہم نے بھی زبور کا تعارف حاصل کیا تو اس کو ان خطبوں پر مشتمل پایا،جن کے ساتھ کنیسہ میں داخل ہوتے وقت داؤد علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ سے مخاطب ہوتے تھے،وہ تمام خطبے ڈیڑھ سو ہیں۔ہر خطبے کا نام’’مَزمور‘‘ رکھا گیا ہے۔ان خطبوں میں سے کسی میں داؤد علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ سے دشمنوں کی شکایت کر کے اس سے مدد طلب کرتے ہیں،کسی میں مدد آنے اور دشمنوں پر غلبہ پانے پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے۔ سیوطی رحمہ اللہ نے درمنثور میں سلف کی ایک جماعت سے اس موضوع پر بہت سی روایات درج کی ہیں اور زبور کے جن الفاظ پر وہ آگاہ ہوئے،انھوں نے وہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ان الفاظ کے یہاں پر ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،کیونکہ قرآن جن مواعظ اور زواجر پر مشتمل ہے،اس نے زبور اور دوسری کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔[1] انتھٰی کلامہ۔ زینۃ القارئ: یہ قراء ات پر مشتمل ایک مختصر کتاب ہے،جس میں اہم مسائل جمع کیے گئے ہیں،اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے:’’الحمد للّٰہ رب العالمین…الخ‘‘