کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 781
رسالۃ في فوائد القرآن: یہ امام ابو القاسم حسین بن علی المعروف بہ الراغب الاصفہانی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ رسالۃ الفوز العظیم: یہ شیخ عبدالمجید بن نصوح الرومی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي شرف أہل طاعتہ…الخ‘‘ مولف نے تتبع کر کے اس موضوع پر تیرہ آیات تلاش کیں۔ رسالۃ في قولہ سبحانہ وتعالیٰ: ﴿لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا﴾: یہ مظفرالدین علی الشیرازی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ رسالۃ المسترضیٰ في تفسیر قولہ تعالیٰ: ﴿وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی﴾: یہ شیخ منصور الطبلاوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۵۶؁ھ) کی تالیف ہے۔ رسالۃ في قولہ سبحانہ وتعالیٰ: ﴿مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾: یہ شیخ ابراہیم بن محمد المامون رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أوجب عبادتہ علی کل موجود…الخ‘‘ رسالۃ في قولہ تعالیٰ: ﴿یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآئَ کِ وَ یٰسَمَآئُ﴾: یہ قوام الدین یوسف بن حسین رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ رسالۃ فيقولہ تعالیٰ: ﴿یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ﴾:یہ احمد الرمضانی،خسرو،امیر حسین النکساری،قرہ باغی،سامسونی اور معین الدین اللاری رحمہ اللہ علیہم کی تالیف ہے۔ علم رسم المصحف: عبدالرحمن بن خلدون رحمہ اللہ نے کتاب العبر میں لکھا ہے کہ بعض اوقات فنِ قراء ت کے ساتھ فنِ رسم کا بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔اس سے مراد مصحف میں قرآنی حروف کے اوضاع و حالات اور اس کی خطی رسوم ہیں،کیونکہ قرآن مجید میں بہت سے ایسے حروف پائے جاتے ہیں،جن کا رسم الخط،خط کے قواعد سے غیر معروف ہے،جیسے’’بأیید‘‘ میں یاء کی زیادتی،’’لا أذبحنہ‘‘ اور’’لا أوضعوا‘‘ میں الف کا اضافہ،’’جزاؤ الظالمین‘‘ میں واؤ کی زیادتی اور کچھ جگہوں کو چھوڑ کر بعض مواضع میں الف کو حذف کر دینا،نیز اس میں لمبی تاء یں لکھی جاتی ہیں،جب کہ ان میں اصل یہ ہے