کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 772
صنعتِ عروض میں معتد بہ چیز یہی لفظ ہے،اس لیے کہ وہ اس کے ساتھ حروف کی تعداد جاننے کا ارادہ کرتے ہیں،جس کے ساتھ متحرکاً و ساکناً شعر کا وزن درست ہوتا ہے۔پس وہ تنوین کو نون ساکن لکھتے ہیں۔وقف کی صورت میں اس کے حذف کی رعایت نہیں رکھتے۔مدغم حرف کو دو حرف لکھتے ہیں۔لام کو اس کے بعد والے حرف سے،جس میں وہ مدغم ہوتا ہے،حذف کر دیتے ہیں،جیسے’’الرحمن‘‘ اور’’الذاہب‘‘۔حروف میں تفعیل کے اجزا پر اعتماد کرتے ہیں۔ کشاف میں لکھا ہے کہ خطِ مصحف میں ایسی چیزوں کا اتفاق ہوا ہے جو قیاس سے خارج ہیں،لیکن لفظ کی استقامت اور خط کے بقا کی وجہ سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔خطِ مصحف کا اتباع ایک ایسی سنت ہے،جس کی مخالفت نہیں کی جاتی۔ ابن درستویہ رحمہ اللہ نے کتاب’’الکتاب‘‘ میں لکھا ہے کہ دو خط ایسے ہیں جن میں قیاس کا دخل نہیں ہے۔پہلا خطِ مصحف ہے،کیونکہ یہ سنت ہے اور دوسرا خطِ عروض،کیونکہ اس میں وہی کچھ ثابت کیا جاتا ہے جس کو لفظ ثابت کرے اور اسے ہی ساقط کیاجاتا ہے جسے لفظ ساقط کر دے۔ یہ خلاصہ ہے ان امور کا جو اہلِ علم نے علمِ خط اور اس کی متفرعات میں ذکر کیے ہیں۔جہاں تک اس علم سے متعلق لکھی جانے والی کتابوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض رسائل کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور جو اس کے علاوہ ہیں وہ نادر اور شاذ ہیں سوائے اوراق و مختصرات کے،جیسے أرجوزۃ عون الدین۔[1] انتھیٰ ما في کشف الظنون۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھائی،کیونکہ اس نے عالمِ غیب کی پوشیدہ چیزوں کو انسان کے لیے منصۂ شہود پر جلوہ گر کیا،تاکہ وہ زمان و مکان کی ہر ایک دور افتادہ چیز سے آگاہی حاصل کر سکے۔وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو انسانی افراد کے کانوں میں پہنچاتا ہے۔تو وہ کبھی توجہ کرتا ہے اور رجوع و انعطاف ظاہر کرتا ہے۔اس کے ہر فعل میں دقائقِ عجیبہ پوشیدہ ہیں۔ قلم کے عجائبات میں سے ایک چیز یہ ہے کہ یہ قلم دوات سے روشنائی اٹھاتا ہے اور کاغذ پر ثبت کر دیتا ہے۔انسان کے باطن کی سیاہی کو نور اور روشنائی میں بدل دیتا ہے۔نیز اس قلم کو رکوع و سجود کی حرکات،بار بار اپنے چہرے کو دوات کے چشمے سے دھونا اور اسے پاک کرنا اور پانچ انگلیوں