کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 762
فعل کی طرف آتا ہے اور وہ تمام حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خط لفظ سے افضل ہے،کیونکہ لفظ کو صرف حاضر ہی سمجھتا ہے،جبکہ خط کو حاضر و غائب دونوں سمجھتے ہیں۔خط کے فضائل بہت زیادہ اور معروف ہیں۔ خط کی ضرورت و اہمیت: جب تخاطب کا فائدہ الفاظ اور اس کے احوال کے ساتھ ہی حاصل ہوتا ہے تو اسی لیے اہلِ علم نے اس کی طرف توجہ دی ہے۔ضبطِ احوال وہ چیز ہے جو ان الفاظ پر دلالت کرتی ہے،وہ بھی اس جنس سے تعلق رکھتی ہے جس کی ضرورت کی طرف توجہ دی جاتی ہے اور وہ،وہ خطوط و نقوش ہیں جو الفاظ پر دلالت کرتے ہیں۔پس وہ ان احوالِ کتابت سے متعلق بحث کرتے ہیں،جن کے نقوش،حرکات،سکنات،نقط،شکل،شدوں،مدوں،ترکیب اور تسطیر کے ضابطے ہر زمانے میں ثابت ہیں،تاکہ ناظرین ان سے الفاظ و حروف کی طرف منتقل ہو سکیں اور الفاظ و حروف سے ذہنوں میں آنے والے معانی کی طرف منتقل ہو سکیں۔ خط کی کیفیتِ وضع اور اس کی انواع: کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے خط کو وضع کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں،جنھوں نے مٹی پر لکھ کر اسے آگ میں پختہ کیا،تاکہ وہ تحریر طوفان کے بعد باقی رہے۔بعض نے کہا ہے کہ خط کے واضع اول ادریس علیہ السلام ہیں۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے عربی خط کو وضع کیا،وہ تین آدمی ہیں،جو طے کے قبیلے بولان سے تعلق رکھتے تھے اور شہرِ انبار میں فروکش تھے۔ان میں سب سے پہلا مرار ہے،اس نے شکل وضع کی،ان میں دوسرا اسلم ہے،جس نے فصل و وصل کو ایجاد کیا،جبکہ تیسرا عامر ہے،جس نے اعجام کو وضع کیا۔اس کے بعد خط کی کتابت عام ہو گئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے واضع چھے آدمی ہیں جن کا تعلق طسم سے ہے اور ان کے نام درج ذیل ہیں : ابجد،ہوز،حطی،کلمن،سعفص اورقرشت۔ان لوگوں نے خط کتابت کو وضع کیا اور ان کے اسما میں سے جو حروف شاذ اور کم تھے،ان کو ان کے ساتھ ملا دیا۔یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ چھے کے چھے مدین کے بادشاہوں کے نام ہیں۔