کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 76
تلاوتِ قرآن کاصحیح طریقہ: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کو عربی لہجوں اور آوازوں میں پڑھو اور اہلِ فسق و اہلِ کتابین (دو کتابوں (تورات و انجیل) والوں) کے لہجوں سے بچو۔[1] الحدیث (رواہ الترمذي والبیہقي) امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحسینِ صوت میں تو کچھ نزاع نہیں ہے اور لحن کو ایک جماعت نے حرام اور دوسری نے مکروہ کہا ہے۔صاحبِ ذخیرہ،امام غزالی،قاضی عیاض مالکی اور ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔غرضکہ الحان،طربیہ انداز اور غزل اور گانوں میں مخصوص انداز و اطوار کی گائیکی کے انداز پر قرآن پڑھنا نہایت شنیع اور بڑی قابلِ مذمت بدعت ہے۔ایسی قراء ت سننے والے پر نکیر اور پڑھنے والے پر تعزیر لازمی ہے۔ توہینِ قرآن کی وعید: لفظ’’مصحف‘‘ میم کی پیش اور زبر دونوں طرح درست ہے،لیکن پہلا زیادہ مشہور ہے۔قاموس میں میم کو مثلث کہا گیا ہے۔مصحف کی میم پر اگر زیر ہو تو یہ اسمِ آلہ ہے،زبر ہو تو اسمِ مکان ہے اور اگر پیش ہو تو اسمِ مفعول ہے۔قرآن مجید کے الفاظ،معانی اور اہلِ قرآن کی توہین کرنا کفر ہے۔ولید پلید نے مصحف کی اہانت کی تھی تو اس پر اس کی تکفیر کی گئی۔اسی طرح مصحف میں سے کسی شے کا انکار،جیسے امر و نہی،خبر سابق و لاحق اورمثال وغیرہ ہیں،کفر ہے۔ایسے ہی سات متواتر قراء توں کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَاِِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ * لاَّ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ﴾ [حٰمٓ السجدۃ: ۴۱،۴۲] [بلا شبہہ یہ یقینا ایک با عزت کتاب ہے۔اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے،ایک کمال حکمت والے،تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے] امام حاکم رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے: [1] المعجم الأوسط (۷/ ۱۸۳) شعب الإیمان للبیہقي (۲/۵۴۰) اس کی سند میں موجود راوی’’حصین بن مالک فزاری‘‘ قابلِ اعتماد نہیں اور اس کا شیخ’’ابو محمد‘‘ مجہول ہے،لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔دیکھیں : العلل المتناھیۃ (۱/ ۱۱۸) ضعیف الجامع (۱۰۶۷)