کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 754
حدیقۃ الزہر في عد آي السور: یہ شیخ برہان الدین ابراہیم بن عمر الجعبری رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۳۲؁ھ) کی تالیف ہے۔اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:’’بدأت بحمد اللّٰہ أول مقصدي…الخ‘‘ اس طرح یہ اٹھاون (۵۸) شعروں پر مشتمل ہے۔ حرز الأماني ووجہ التھاني في القراء ات السبع المثاني: یہ وہی شاطبیہ کے نام سے مشہور قصیدہ ہے۔یہ شیخ ابو محمد قاسم بن فیرہ الشاطبی الضریر رحمہ اللہ (المتوفی: بالقاہرہ ۵۹۰؁ھ) کی تالیف ہے۔مولف نے اس میں’’التیسیر‘‘ کو نظم کی صورت میں لکھا ہے،جیسا کہ علامہ جزری رحمہ اللہ نے’’التحبیر‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔اس کے شعروں کی تعداد ایک ہزار ایک سو تہتر (۱۱۷۳) ہے۔ملا کاتب رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مولف نے اس میں خوب جدت پیدا کی ہے،حتیٰ کہ یہ اس فن کی ایک عمدہ کتاب بن گئی ہے۔اس تفسیر کی بہت سی شروح ہیں،جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں : کنزالمعاني: یہ سب سے زیادہ اچھی اور دقیق شرح ہے۔یہ برہان الدین ابراہیم بن عمر الجعبری رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۳۲؁ھ) کی تالیف ہے۔یہ ایک مفید اور مشہور شرح ہے،اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ مبدیٔ الأمم ومنشیٔ الرمم…الخ‘‘ شارح ماہِ شعبان ۶۹۱؁ھ میں اس کی تالیف سے فارغ ہوئے۔ العبقري: یہ تفسیر (حرز الأماني) پر ایک حاشیہ ہے،جو شمس الدین احمد بن اسماعیل الکورانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۹۳؁ھ) کا تحریر کردہ ہے۔ 3۔شمس الدین محمد بن حمزہ فناری رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۳۴؁ھ) کا بھی ایک حاشیہ ہے۔ الفتح الوصید في شرح القصید: یہ علم الدین ابو الحسن علی بن محمد السخاوی المصری رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۴۳ھ؁) کی شرح ہے۔حزر الامانی کی سب سے پہلی شرح لکھنے والے یہی بزرگ ہیں۔ إبراز المعاني من حرز الأماني: یہ شیخ ابو شامہ عبدالرحمن بن اسماعیل الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۶۵؁ھ) کی شرح ہے۔یہ متوسط درجے کی اچھی تالیف ہے،پھر شارح نے اس کتاب کا اختصار بھی لکھا ہے۔ کنزالمعاني: یہ شیخ ابو عبداللہ محمد بن احمد المعروف بہ شعلۃ الموصل الحنبلی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۵۶؁ھ) [1] طبقات المفسرین (ص: ۳۰۸)