کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 743
صورتوں میں ایک ہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ طبیعت اصلاح پذیر ہو اور مرض زائل ہو جائے۔اسی طرح ہر ملک میں دوا اور غذا اس ملک کے طبعی حالات کے موافق ہوتی ہے اور دوسرے ملک میں مختلف۔لہٰذا ہر موسم میں اس کے موافق تدبیر اختیار کی جاتی ہے۔ حکیمِ مطلق کی ایسی ہی شانِ حکمت ہے۔جب اس نے چاہا کہ نفسانی امراض کے مریضوں کا علاج کرے،ان کی طبیعت اور ملکی قوت کو قوی کر کے تمام خرابیوں کو زائل کر دے تو اس نے مختلف معالجے ہر زمانے کے مختلف اقوام کے مناسب تجویز فرمائے اور اس کے ساتھ ان کی عادات (رسوم) اور مسلمات کو مد نظر رکھا۔[1]انتھیٰ کلامہ بلفظہ۔ یہ ہے تورات،اس کی حقیقتِ تحریف اور احوالِ یہود کا اجمالی بیان۔بعض مورخینِ اسلام نے احوالِ تورات کے بیان میں اختصار کی راہ اختیار کی ہے اور بعض نے طوالت سے کام لیا ہے۔حافظ ابو الفدا اسماعیل بن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ کے آغاز میں تورات اور اس کے تین نسخے ہونے کا ذکر کیا ہے۔یہ تاریخ مشہور ہے اور قاہرہ مصر میں طبع ہوئی ہے۔راقم الحروف نے اس کے مطالعے کو بہت مفید پایا ہے۔ چونکہ فرمانِ حمید میں تورات،انجیل اور زبور کا بہت زیادہ ذکر ہوا ہے اور مختلف قسم کے مناظروں میں ان کو کام میں لایا گیا ہے تو ان کتابوں کا اس کتاب میں ذکر کرنامناسب محسوس ہوا،اس لیے کہ قرآن مجید کے فہم میں اس کا دخل ہے اور ایک چیز سے دوسری چیز کو سمجھا جاتا ہے۔رہی زبور تو اس کا بیان حرفِ زا میں آئے گا۔انتظار کیجیے۔ التوسط بین الأخفش وثعلب في التفسیر: یہ ابن درستویہ عبداللہ بن جعفر النحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۴۷؁ھ) کی تالیف ہے۔ توضیح المشکل في القراء ات: یہ ابو عثمان سعید بن محمد المعرو ف بابن الحداد القیروانی رحمہ اللہ (المتوفی شہیداً ۴۰۰ھ؁) کی تالیف ہے۔ التہذیب في التفسیر: یہ ابو سعد محسن بن کرامہ جشمی بیہقی رحمہ اللہ کی چند جلدوں میں تالیف ہے۔مفسر نے پہلے قراء ت،پھر لغت،پھر اعراب،پھر معنی اور پھر احکام تحریر کیے