کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 738
واللّٰہ لوکان موسیٰ بین أظہرکم ما حل لہ إلا اتباعي)) [1] واللفظ للبزار۔ [عمر رضی اللہ عنہ نے تورات سے کچھ نقل کر کے عربی زبان میں ایک کتاب تیار کی،جسے لے کروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔اس دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بدلنے لگا۔ایک انصاری نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ ! تجھ پر افسوس! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھتے؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ کتاب سے کسی شَے کے متعلق سوال مت کرو،چونکہ وہ خود گمراہ ہیں،اس لیے تمھیں قطعاً ہدایت نہیں دے سکتے۔اس طرح تم یا تو حق کو جھٹلا بیٹھو گے یا باطل کی تصدیق کرو گے،اللہ کی قسم! اگر موسیٰ علیہ السلام تمھارے درمیان موجود ہوں تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا کچھ حلال نہیں ہے] اس موضوع پر اور بھی احادیث ہیں،مگر وہ سب ضعیف ہیں،لیکن ان سب کامجموعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل ضرور ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں یوں رقمطراز ہیں کہ اس سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے،تحریمی نہیں۔اس مسئلے میں بہتر بات یہ ہے کہ اس میں فرق کیا جائے کہ وہ شخص جو ایمان میں پختہ نہ ہو،اس کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کرنا جائز نہیں ہے اور وہ جو ایمان میں راسخ ہے،خاص طور پر جب مخالف کا رد کرنے کی ضرورت ہو،اس کے لیے یہ مباح ہے۔اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قدیم و جدید دور کے ائمہ نے تورات کے حوالے نقل کیے ہیں اور انھیں کی کتابوں سے نکال کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کو ان پر لازم قرار دیا ہے۔رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر غصہ کرنے سے اس کی حرمت پر دلیل بنانا تو یہ استدلال مردود ہے،کیونکہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مکروہ فعل اور خلافِ اولی کام پر بھی غضب فرماتے،جب وہ فعل کسی کے لیے لائق نہ ہوتا،جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کے نماز میں لمبی قراء ت کرنے پر غصہ فرمایا تھا۔[2] انتھیٰ کلامہ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب’’الفوز الکبیر‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ یہودی [1] إغاثۃ اللھفان (۲/ ۳۵۵)