کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 736
پھیل چکی اور اس کے شمال و جنوب میں پہنچ چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اس کے نسخوں کی تعداد کو نہیں جانتا۔پس اس بات پراتفاق کرنا ناممکن ہے کہ یہ تمام نسخے اس طرح تبدیل اور متغیر ہو چکے ہوں کہ روے زمین پر ان میں سے کوئی غیر مبدل نسخہ باقی نہ رہا ہو،عقل اس کو محال جانتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴾ [آل عمران: ۹۳] [کہہ دو کہ لاؤ تورات،پھر اسے پڑھو اگر تم سچے ہو] نیز یہود نے فریضہ رجم کو چھوڑنے پر اتفاق کر رکھا تھا،لیکن ان کے لیے تورات میں اس کو بدلنا ممکن نہ ہوا۔لہٰذا جب انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھا تو پڑھنے والے نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا۔اس پرعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ،جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو نیچے سے وہ آیتِ رجم نمودار ہو گئی۔[1] ایک جماعت نے میانہ روی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے اور کسی قدر تبدیلی ہوئی ہے۔ہمارے شیخ نے بھی اپنی کتاب’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ میں اسی مذہب کو اختیار کیا ہے۔اس کتاب میں وہ رقم طراز ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا: ’’اذبح ولدک بکرک ووحیدک إسحق‘‘ [اپنے نوجوان اور اکلوتے بیٹے اسحاق کو ذبح کرو] میں کہتا ہوں کہ اس میں لفظ’’اسحاق‘‘ کا اضافہ دس وجوہ سے باطل ہے۔پھر شیخ نے ان دس وجوہات کو بیان فرمایا ہے۔’’إغاثۃ اللھفان‘‘ میں وہ وجوہ درج ہیں۔اس کے بعد حافظ ابن القیم رحمہ اللہ اس میں یوں رقم طراز ہیں کہ یہ تورات جو آج یہود کے ہاتھوں میں موجود ہے،یہ عزیر علیہ السلام کی لکھوائی ہوئی ہے۔اس کابہت سا حصہ تورات سے ہے،جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا،پھر اُس امت نے اسے لے لیا،حتیٰ کہ اس کے ساتھ تین امور شامل ہو گئے: ۱۔کمی و بیشی،۲۔اختلافِ ترجمہ،۳۔اختلافِ تاویل و تفسیر۔اس کے بعد انھوں نے اس تبدیلی کی دو تین مثالیں بھی ذکر کی ہیں۔اسی طرح حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی اسی کتاب کی دوسری [1] کشف الظنون (۱/ ۵۰۶)