کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 731
کی تالیف ہے۔مولف نے اس میں سات مطالع اور ایک مقدمہ گیارہ طبقات میں بیان کیا ہے۔ تنویرالمقباس في تفسیر ابن عباس: یہ ابو طاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی الشافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۱۷؁ھ) کی تالیف ہے۔یہ تفسیر چار جلدوں میں ہے۔ التوراۃ: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے،جس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے کلیم موسیٰ علیہ السلام پر اتارا۔یہ کتاب عبری زبان میں ہے،لیکن یہود نے اس میں تحریف اور تبدل کر دیا ہے،خاص طور پر معربات کے نسخوں میں۔یہ تین نسخے ہیں،جن کے الفاظ تو مختلف ہیں،مگر تھوڑے سے فرق کے ساتھ معانی ملتے جلتے ہیں : 1۔ان تین نسخوں میں سے ایک کا نام:’’توراۃ السبعین‘‘ ہے۔تورات کے اس نسخے پر بہتر (۷۲) احبارِ یہود نے اتفاق کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یونان کے ایک باشاہ نے یہود کے ایک بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تورات کے حفاظ کی ایک جماعت اس کے پاس بھیجے۔چنانچہ اس نے یونانی بادشاہ کے پاس بہتر (۷۲) احبار بھیج دیے۔یونانی بادشاہ نے ان میں سے دو دو کو الگ الگ گھر میں بٹھا دیا اور ان کے پاس تورات لکھنے کے لیے کاتب اور ترجمان بھی بٹھا دیے۔انھوں نے تورات کا یونانی زبان میں ترجمہ کیا،پھربادشاہ نے تورات کے ان چھتیس ترجمہ شدہ نسخوں کا آپس میں تقابل کیا تو معلوم ہوا کہ ان کے الفاظ مختلف ہیں،مگر معنی و مفہوم ایک جیسا ہے۔اس پر بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ ان لوگوں نے سچ بیان کیا ہے اور لوگوں کی خیرخواہی کی ہے،پھر ان نسخوں کا سریانی اور اس کے بعد عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ 2۔تورات کا دوسرا نسخہ قرائین اور رہابین کا نسخہ ہے۔ 3۔تیسرا نسخہ،نسخہ سامرہ ہے۔ علما میں سے ایک نے کہا ہے کہ میں نے معرب تورات کا مکمل مطالعہ کیا تو مجھے اس میں توحید کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملی۔نماز،روزہ،زکات اور بیت المقدس کا حج جیسے اعمال اس میں نہیں ہیں۔اس میں روزِ آخرت کا ذکر ہے اور نہ جنت اور جہنم کی طرف جانے کا،شاید یہ یہودیوں کی تحریف کا [1] کشف الظنون (۱/ ۴۸۵)