کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 727
تفسیر النقاش: اس کا نام’’شفاء الصدور‘‘ ہے،اس کا ذکر آگے آئے گا۔ تفسیر نورالدین زادہ: شیخ مصلح الدین رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۸۱؁ھ) کی یہ تفسیر سورۃالانعام تک ہے۔ تفسیر النہدي،یہ ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود رحمہ اللہ کی تالیف ہے،جس کا ثعلبی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ تفسیر النیسابوري: اس کا نام:’’غرائب القرآن‘‘ ہے،اس کا ذکر آگے آئے گا۔ان کی ایک اور تفسیر ہے جس کا نام :’’البصائر‘‘ ہے،اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔راقم الحروف نے پہلی تفسیر دیکھی ہے وہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ کی تفسیر سے ماخوذ ہے۔ تفسیر النیسابوري القدیم: ابو القاسم حسن بن محمد واعظ رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۰۶؁ھ) ابو بکر محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۱۰؁ھ) اور احمد بن محمد نیسابوری رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۵۳؁ھ) کی تالیف ہے۔ تفسیر الواحدي: یہ تین تفسیریں ہیں : ایک بسیط،دوسری وسیط اور تیسری وجیز۔ان تینوں تفسیروں کا نام:’’الحاوي لجمیع المعاني‘‘ ہے،ان سب کا ذکر آگے آئے گا۔ تفسیر الواقدي: یہ محمد بن عمر رحمہ اللہ کی تالیف ہے،جبکہ ثعلبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان کا نام حسین بن واقد ہے۔ تفسیر الوالبي: امام علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ کی تالیف ہے،جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ تفسیر ورقاء بن عمر: ثعلبی رحمہ اللہ نے’’کشف‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ تفسیر وکیع: یہ امام زاہد ابو سفیان وکیع بن الجراح کوفی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۹۷ھ؁) کی تالیف ہے۔ تفسیر ہشیم بن بشیر: ثعلبی رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ تفسیر وہب: شاید اس کے مولف وہب بن منبہ یمانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۱۴؁ھ) ہیں۔ تفسیر الدہراني: یہ ابو الحسن علی بن عبداللہ بن مبارک خطیب داریا رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۱۵ھ؁) کی تالیف ہے۔ تفسیر الہندي،یہ شیخ فیض اللہ اکبر آبادی متخلص بہ فیضی بن مبارک رحمہ اللہ (المتوفی درحدود ۱۰۰۰ھ؁)