کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 724
تفسیر الکواشي: یہ موفق الدین احمد بن یوسف موصلی شیبانی شافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۸۰ھ؁) کی تالیف ہے۔یہ دو تفسیریں ہیں،ایک ان میں سے بڑی ہے،جس کا نام’’التبصرۃ‘‘ اور دوسری چھوٹی ہے جس کا نام’’التلخیص‘‘ ہے۔ تفسیر الکوراني: یہ بھی دو تفسیریں ہیں۔ایک’’غایۃ الأماني‘‘ یہ کورانی رحمہ اللہ کی متقدم تفسیر ہے اور دوسری’’جامع الأسرار‘‘ متاخر تفسیر ہے۔ تفسیر اللخمي۔ تفسیر الماتریدي: اس کا نام’’التأویلات‘‘ ہے،جس کا ذکر گزر چکا ہے۔ تفسیر الماوردي: یہ امام ابو الحسن علی بن حبیب شافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۵۰؁ھ) کی تالیف ہے۔اس تفسیر کا اختصار شیخ ابوالفیض محمد بن علی بن عبداللہ حلی رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ تفسیر مجاہد: یہ ابو الحجاج مجاہد بن جبر مکی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۰۴؁ھ) کی تالیف ہے۔اس کے کئی طرق ہیں۔ایک طریق ابن ابی نجیح رحمہ اللہ،دوسرا ابن جریج رحمہ اللہ اور تیسرا طریق لیث رحمہ اللہ کاہے۔ تفسیر المجرد: یہ ابو شجاع رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ تفسیر محمد بن أیوب رازي۔ تفسیر محمد بن عبد الرحمٰن البخاري العلائي ملقب بالزاہد الحنفي (المتوفی: ۵۴۶؁ھ)۔یہ تفسیر ایک ہزار اجزا سے زیادہ ہے۔ تفسیر المریسي: یہ شرف الدین ابو الفضل محمد بن عبداللہ بن محمد بن ابی الفضل شافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۵۵؁ھ) کی تالیف ہے۔یہ تفسیر بیس جلدوں میں ہے،اس تفسیر میں مولف نے اس بات کااہتمام کیا ہے کہ آیات کا ایک دوسری کے ساتھ ربط اور اس کی وجوہ کو بیان کیا جائے۔ان کی ایک اوسط تفسیر ہے،جو دس اجزا میں ہے اور ان کی ایک چھوٹی تفسیر بھی ہے،جو تین اجزا یعنی ایک جلد میں ہے۔ تفسیر مسلم الرازي۔ تفسیر المسعودي: یہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مروزی شافعی تلمیذ قفال رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ تفسیر مسیب بن شریک: ثعلبی رحمہ اللہ نے’’کشف‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ [1] کشف الظنون (۱/ ۴۵۷)