کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 705
تفسیر بدرالدین،محمود بن اسرائیل بن قاضی سماونہ رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۲۳؁ھ) یہ تفسیر دو جلدوں میں ہے،اس کے اطراف میں نہایت عمدہ حاشیے لکھے گئے ہیں۔ تفسیر بدرالدین،محمود الایدینی رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۵۶؁ھ) تفسیر البستي،ابن حبان رحمہ اللہ،جس کا ابھی ذکر گزرا ہے۔ تفسیر برہان الدین،ابو المعالی احمد بن ناصر بن طاہر حسینی حنفی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۸۹؁ھ) یہ تفسیر سات جلدوں میں ہے۔ تفسیر البغوي،جس کا نام’’معالم التنزیل‘‘ ہے،اس کا ذکر آگے آئے گا۔ تفسیر البقاعي،جس کا نام’’نظم الدرر في تناسب الآي والسور‘‘ ہے،جو’’مناسبات‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔باب النون میں اس کا ذکر آئے گا۔ان کی’’تفسیر آیۃالکرسی‘‘ بھی ہے،جس کا نام’’فتح القدسي‘‘ ہے۔’’باب الفاء‘‘ میں اس کا ذکر آئے گا،اسی طرح ایک’’مصاعد النظر للإشراف علیٰ مقاصد السور‘‘ بھی ہے،جس کا ذکر’’باب المیم‘‘ میں آئے گا۔ تفسیر بقي،شیخ امام حافظ ابو عبدالرحمن بقی بن مخلد قرطبی رحمہ اللہ (المتوفی: ۲۷۶؁ھ) موصوف صاحبِ مسند ہیں۔ابن حزم رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’ما صنف تفسیر مثلہ أصلا،وکان مجتہدا لایقلد أحدا،بل یفتي بالأثر،کذا فيالمقتفٰی شرح الشفاء‘‘[1] [اس جیسی تفسیر سرے سے لکھی ہی نہیں گئی،اس کے مولف مجتہد تھے،وہ کسی کے مقلد نہ تھے،بلکہ وہ اثر کے ساتھ فتوی دیتے تھے۔’’مقتفٰی شرح الشفاء‘‘ میں ایسے ہی بیان ہوا ہے] تفسیر البکبازاري۔ تفسیر البلقیني،علم الدین صالح بن السراج عمر البلقینی الشافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۶۸؁ھ) ان کے بھائی جلال الدین عبدالرحمن بن عمر البلقینی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۲۴؁) کی بھی ایک تفسیر ہے،لیکن وہ اسے مکمل نہ کر پائے۔ تفسیر البیاني۔ تفسیر البیضاوي،جس کا نام:’’أنوار التنزیل‘‘ ہے اور پہلے اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ [1] کشف الظنون (۱/ ۴۴۳)